رنگیلا کی شخصیت کے رنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعید خان عرف رنگیلا نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک باڈی بلڈر کے طور پر کیا تھا۔ روزی کمانے کے لیے وہ فلموں کے بورڈ بھی پینٹ کرتے رہے لیکن قدرت نے انہیں ایسا جسم اور ایسی شکل عطا کی تھی کہ لوگ تن سازی یعنی باڈی بلڈنگ کے مقابلوں میں انہیں داد دینے کے بجائے یا انکی پینٹنگ کو سراہنے کے بجائے ان کی صورت دیکھتے ہی ہنس پڑتے۔ یہیں سے انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ ہنسنے ہنسانے کو زندگی کا مقصد بنا لیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے فلموں میں چھوٹے موٹے کردار قبول کرنے شروع کر دیئے۔ انیس سو چونسٹھ کی فلم گہرا داغ میں انہیں پہلی بار ایک اہم رول ملا۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں جب لاہور کی پنجابی فلم انڈسٹری اپنے عروج پر تھی تو مصنف حزیں قادری نے رنگیلا کے لیے مخصوص طرح کے مزاحیہ رول لکھنے شروع کیے جن میں کبھی وہ ہانگ کانگ کے نلکوں کا پانی پیتے تو کبھی گھوڑے کے انداز میں گھاس کھانے کا مظاہرہ کرتے۔ پروڈیوسر و اداکار کمال کی فلم انسان اور گدھا اور خورشید قادری کی فلم عورت راج میں ان کے کردار بہت مقبول ہوئے۔ انیس سو انہتر میں انہوں نے اپنی ذاتی فلم دیا اور طوفان بنائی جس میں وہ بیک وقت ایک مصنف، ہدایتکار، اداکار، گیت نگار، گلوکار اور موسیقار کے طور پر نمودار ہوئے۔ اس فلم کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی جس کے بعد انہوں نے اپنی فلم رنگیلا پیش کی اور اس کے بعد فلم دو رنگیلے بھی ہٹ ثابت ہوئی۔ کامیابیوں کا یہ سلسلہ انیس سو چوہتر تک جاری رہا اور آخر کار فلم کبڑا عاشق ان کے زوال کا آغاز بنی۔ اس فلم کے بری طرح فلاپ ہونے کے بعد وہ کافی عرصہ منظر سے غائب رہے لیکن اس کے بعد انہوں نے پھر سے چھوٹے موٹے کردار قبول کرنا شروع کر دیئے اور فلمی تاریخ میں غالباً یہ پہلا موقع تھا کہ ایک اداکار مکمل طور پر ڈوبنے کے بعد پھر سے نہ صرف ابھر آیا بلکہ ایک مرتبہ پھر کامیابی کے جھنڈے گاڑنے لگا۔ وہ کچھ عرصے سے علیل تھے لیکن انہوں نے اس بیماری کو کبھی اپنے اعصاب پر سوار نہ ہونے دیا اور آخری وقت تک کام جاری رکھا۔ ان کی آخری فلم منڈے توبہ توبہ ہے جو ابھی ریلیز نہیں ہوئی جس میں انہوں نے ایک پٹھان کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ فلم سر تا سر ایک کامیڈی ہے اور ریلیز ہونے کے بعد رنگیلا کی یادیں ایک بار پھر تازہ کر دے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||