دھماکہ: ممبئی سنیما مالکان ڈر گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ کی بیشتر فلمیں آج کل مشکل دور سے گزر رہی ہیں کیونکہ کئی فلموں کے خلاف عدالتوں میں مفاد عامہ کی عرضداشتیں داخل ہیں تو کئی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ دہلی میں فلم ’جو بولے سو نہال‘ کی نمائش کے دوران بم دھماکوں کے بعد ممبئی میں گھبرا کر کئی سنیما گھروں سے فلم اتار لی گئی۔ ممبئی کے آئی نوکس ،گیلیکسی ،فیم ایڈ لیبس، اور فن ری پبلک میں ان کے مالکان نے گھبرا کر فلم کی نمائش روک دی۔ پروڈیوسرز گلڈ آف انڈیا کے صدر پہلاج نہلانی نے تمام پروڈیوسرز کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی جس میں یہ طے کیا گیا کہ وہ مرکزی حکومت سے سینسر بورڈ کو مزید اختیارات دینے کا مطالبہ کریں گے۔ پہلاج نے بی بی سی کو بتایا کہ بم دھماکہ فلم اور بالی وڈ کو بدنام کرنے کی سازش کا ایک حصہ ہے ۔لوگ فلم کی نمائش سے پہلے ہی مفاد عامہ کی عرضداشت عدالت میں داخل کر دیتے ہیں اس کے بعد ہفتہ وصولی کے لئے دھمکاتے ہیں۔
’پہلے تو کبھی اس طرح کی بات سامنے آتی تھی لیکن اب اسی ماہ فلم کال، نینا ،اور اب جو بولے سو نہال کا تنازعہ کھڑا کیا گیا اس فلم کو پنجاب کی عدالت سے منظوری حاصل ہو چکی تھی اور وہاں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم اکال تخت نے بھی نمائش کی یہ کہہ کر اجازت دے دی تھی کہ وہ فلم کے پوسٹرز پر یہ لکھیں کہ یہ فلم مذہبی نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہاں کی تنظیم شرومنی گردوارا پربندھک کمیٹی اعتراض کر رہی ہے۔‘ پوری میٹنگ کے دوران فلم جو بولے سو نہال کے ڈائریکٹر راہول رویل خاموش بیٹھے رہے۔ ممبئی میں یہ فلم بائیس سنیما گھروں میں دکھائی جا رہی تھی۔ پروڈیوسرز گِلڈ نے ممبئی پولیس کمشنر سے بات کی اور ان تمام سنیما گھروں پر پولیس تحفظ کا مطالبہ کیا جہاں اس فلم کی نمائش جاری ہے۔ جوائنٹ پولیس کمشنر (نظم و نسق اور تحفظ ) جاوید احمد نے بتایا کہ انہوں نے پولیس کو تمام سنیما گھروں پر تعینات کر دیا ہے اور وہ ممبئی کا ماحول بگڑنے نہیں دیں گے۔ فلم ’جو بولے سو نہال‘ میں ہیرو سنی دیول ہیں اور وہ لڑکی سے پیار کرتے ہیں اور گیت گاتے ہیں۔ سکھوں کی تنظیم کو اعتراض ہے کہ اس فلم کے بعض مناظر میں سکھوں کی مقدس کتاب کو مسخ کرتے پیش کیا گیا ہے۔ بعض تنظیموں کو اس بات سے بھی اعتراض ہے کہ فلم کے ہیروں کو جو ایک سکھ کے کردار میں ہے ایک ایسی لڑ کی کے ساتھ کیوں دکھایا گیا ہے جو صرف ’بکنی‘ پہنے ہوئے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||