BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 May, 2005, 18:53 GMT 23:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایف بی آئی پر چشم پوشی کا الزام
سارا زین
سارا زین افضل زین کی تصویر کے ساتھ
حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے نے امریکی ادارے ایف بی آئی پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو امریکی شہریوں پر پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے ارکان کے تشدد سے چشم پوشی کی۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ دونوں پاکستانی بھائیوں پر اپنے معمول کے مطابق ’تشدد‘ کیا لیکن امریکی ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے اس تشدد کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

ادارے کے مطابق ان پاکستان نژاد امریکی شہریوں زین اور کاشان افضل سے آٹھ ماہ کے دوران کم از کم چھ مواقع پر تفتیش کی گئی۔

اس خبر پر حکومتِ پاکستان اور امریکہ دنوں ہی نے ابھی تک کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ دنوں بھائیوں کو اگست میں کراچی سے ان کے گھر سے اغوا کیا گیا کیونکہ ان پر شبہ تھا کہ وہ القاعدہ تنظیم کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

تاہم اپریل میں ان پر بغیر کوئی مقدمہ دائر کیے انہیں رہا کر دیا گیا۔ لیکن اس سے قبل ان سے اعتراف کرانے کے لیے انہیں کسی بار مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس سے پہلے زین افضل کی اہلیہ سارا افضل نے مارچ میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر اور جیٹھ کو ایجنسیوں نے اغوا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر زین اکتوبر دو ہزار ایک میں حزب المجاہدین تنظیم کے کارکنوں کے ہمراہ افغانستان جہاد کے لیے گئے تھے مگر وہ دس دن میں ہی واپس آ گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس ان کے شوہر کو مئی کے مہینے میں بھی اغوا کیا گیا تھا اور ان کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

سارا کے مطابق گزشتہ برس تیرہ اگست کو زین اور کاشان کو دوبارہ اغوا کیا گیا اور اس مرتبہ اغوا کار ان کے امریکی پاسپورٹ اور شناختی دستاویزات سمیت کئی چیزیں اپنے ساتھ لے گئے جس کے بعد سے وہ اب تک لاپتہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کراچی کے علاقے ناظم آباد کے تھانے رضویہ میں جب وہ اس کیس کی رپورٹ لکھوانے گئیں تو پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ یہ کام خفیہ اداروں کا ہے جس میں پولیس کوئی مداخلت نہیں کر سکتی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد