BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 May, 2005, 18:13 GMT 23:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیفما کانفرنس، نیپالی وفد رک گیا

News image
بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش سے اٹھائیس سیاسی جماعتوں کے پچاس سے زیادہ پارلیمینٹیرینز ’سیفما‘ کی دعوت پر چھ روزہ پارلیمانی فورم میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

نیپال حکومت نے اپنے ملک کی سیاسی جماعتوں کے وفد کو اس پارلیمانی فورم میں شرکت سے روک دیا ہے۔

ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن، یعنی ’سیفما، کے سیکریٹری جنرل امتیاز عالم نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ نیپال کی حکومت نے سیاسی جماعتوں کے وفد کو پارلیمانی کانفرنس میں شرکت سے روک دیا ہے۔

انہوں نے نیپالی فوج کی جانب سے سیاستدانوں کو کانفرنس میں شرکت سے روکنے کو انتہائی افسوس ناک قدم قرار دیا اور نیپال کے بادشاہ گیاندرہ ور بکرم شاہ سے اپیل کی کہ روکے گئے نیپالی سیاستدانوں کے وفد کو پاکستان آنے کی اجازت دی جائے۔

امتیاز عالم نے بتایا کہ ’فروغ پانے والی جنوبی ایشیائی برادری‘ کے عنوان کے تحت چھ روزہ کانفرنس اتوار کے روز بھوربن میں شروع ہورہی ہے۔

منتظمین کے مطابق چھ روزہ ’سیفما پارلیمینٹری فورم: ساؤتھ ایشین پارلیمینٹ‘ میں مجموعی طور پر چونتیس سیاسی جماعتوں کے پارلیمینٹیرینز شرکت کر رہے ہیں۔

جن میں بھارت سے کی تیرہ ، پاکستان کی چھ، سری لنکا کی چھ اور بنگلہ دیش کی چار سیاسی جماعتوں کے وفود پہنچ چکے ہیں۔

ان کے مطابق افتتاحی اجلاس سے سپیکر قومی اسممبلی چودھری امیر حسین خطاب کریں گے جبکہ وزیراعظم شوکت عزیز اسلام آباد میں مہمانوں کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے۔

سیفما کے رہنماؤں نے بتایا کہ آخری روز صدر جنرل پرویز مشرف کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کریں گے ۔ لیکن وقت اور مقام کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

اس فورم کا مقصد جنوبی ایشیا کی اہم سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو ایک دوسرے کا نکتہ نظر سمجھنے کے لیے ایک موقع مہیا کرنا ہے۔

فورم میں سیاستدان، صحافی اور مختلف شعبوں کے ماہر جہاں مختلف امور پر بحث مباحثہ کریں گے وہاں خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے فروغ کے لیے تحقیقاتی مکالے بھی پڑھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ جنوبی ایشیا میں صحافیوں کی اس تنظیم کے مجوزہ ’سیاسی شو‘ میں خطے کے مختلف ممالک سے حکومت اور حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے والی اہم جماعتوں کے نمائندے شریک ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد