’لشکرجھنگوی کے ارکان‘ ریمانڈ پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے کالعدم لشکر جھنگوی کے گرفتار دو مبینہ خودکش حملہ آوروں کو جمعہ کے روز چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ ملزمان سے وہ اسلحہ وگولہ بارود برآمد کرنا ہے جو انہوں نے دہشت گردی کی وارداتیں کرنے کے لیے چھپا رکھا ہے۔ جبکہ ملزمان کا کہنا تھا کے وہ لشکر جھنگوی سے ہمدردی تو رکھتے ہیں لیکن کبھی بھی عملی طور پر اس کے اغراض و مقاصد کے لیے کام نہیں کیا اور یہ کہ پولیس انہیں زبردستی دہشت گرد قرار دینا چاہ رہی ہے۔ ملتان کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) سکندر حیات نے جمعرات کے روز ایک اخباری کانفرنس کے ذریعے لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے دو مبینہ دہشت گردوں پینسٹھ سالہ خواجہ ابراھیم اور اٹھارہ سالہ عامر شہزاد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ ڈی پی او کا کہنا تھا کہ ملزمان سیالکوٹ کی امام بارگاہ زینبیہ اور لاہور کے موچی دروازہ میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ضمن میں ہونے والے حالیہ خود کش حملوں کی منصوبہ سازی میں شامل رہے۔ پولیس افسر نے انکشاف کیا کہ ملزمان پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے لشکر جھنگوی کے موجودہ سربراہ حافظ یٰسین کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں پارلیمان کی عمارت پر قبضہ اور ارکان پارلیمان کو یرغمال بنانے کی منصوبہ بندی بھی کرتے رہے۔ گرفتار ملزم خواجہ ابراہیم اس سلسلے میں ایک دفعہ قومی اسمبلی کی کارروائی دیکھنے کے لیے صحافی بن کر پریس گیلری میں موجود رہا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو پریس گیلری کے لیے داخلہ پاس راولپنڈی/اسلام آباد کے ایک صحافی نے بنوا کر دیا تھا۔ ملزم عامر شہزاد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ سیالکوٹ کی امام بارگاہ زینبیہ کے سانحہ میں ملوث خودکش حملہ آور جاوید عرف جبار اور لاہور کے موچی دروازہ کی ایک شیعہ مسجد میں دہشت گردی کی واردات کرنے والے خودکش حملہ آور شاہد عرف کراچی والا حسن کے ساتھ موقع پر موجود تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم عامر گزشتہ برس پانچ دسمبر کو ملتان میں ہونے والے ایم ایم اے کے احتجاجی جلسے میں شیعہ رہنما علامہ ساجد نقوی کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے جسم سے بم باندھ کر بیٹھا رہا لیکن ساجد نقوی جلسہ میں تشریف نہ لائے۔ ڈی پی او کے مطابق پچھلے سال نومبر کے مہینے میں چند حملہ آوروں نےملتان کے علاقے شجاع آباد میں ایک کاٹن جننگ فیکٹری کے عملے سے پچاس لاکھ کے لگ بھگ رقم بزور اسلحہ چھیننے کی کوشش کی تو فیکٹری کے گارڈ نے مزاحمت کی جس پر دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے اس تبادلے میں فیکٹری کا گارڈ اور ڈرائیور جبکہ ایک حملہ آور جو کہ پولیس وردی میں تھا ہلاک ہوئے تھے۔ اس واردات میں مبینہ طور پر ملوث بلال لانگ اور حاجی صادق کو گرفتار کرکے جب تفتیش کی گئی تو انہوں نے انکشاف کیا کہ اگر واردات کامیاب رہتی تو لوٹی ہوئی رقم دہشت گردی کی منصوبہ سازی اور گولہ بارود خریدنے کے لیے خواجہ ابراہیم اور عامر شہزاد کے حوالے کی جانی تھی۔ ڈی پی او کا دعویٰ تھا کے ملزموں کو بارہ مئی کے روز مخبری ہونے پر جلال پور پیر والہ میں بلال لانگ کے ڈیرے سے گرفتار کیا گیا۔ ملزم ابراھیم کے بارے بتایا گیا ہے کہ وہ افغان جہاد میں حصہ لیتا رہا ہے جبکہ ملزم عامر کا باپ اور بھائی بھی افغانستان سے دہشت گردی کی تربیت لے چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||