کوئٹہ: دو چھاپوں میں پانچ گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں پولیس نے دو مختلف واقعات میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے ان میں تین راکٹ باری اور بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار ہوئے ہیں جبکہ دو افراد شیعہ امام بارگاہ کے قریب گرفتار کیے گئے ہیں۔ ڈی آئی جی کوئٹہ پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ آج پولیس نے مری کیمپ پر چھاپہ مارا جہاں تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں جسٹس نواز مری کی قتل کے کیس میں مطلوب ملزم عبدالرحمان مری بھی شامل ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جس مقام پر چھاپہ مارا گیا ہے وہاں سے اسلحہ برآمد ہوا ہے جن میں راکٹ بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ دو ہفتے قبل اسی مری کیمپ پر چھاپے میں ایک شخص کو ایک سو بیس کلو بارود کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ اس بارود سے پولیس کے مطابق تین سو بم بنائے جا سکتے ہیں۔ مری کیمپ شہر کے باہر مغربی بائی پاس کے قریب واقع ہے جہاں پولیس کے مطابق چار سو کے لگ بھگ مکانات ہیں۔ ادھر ایک دوسرے واقعہ میں پولیس نے علمدار روڈ پر ایک امام بارگاہ کے قریب کالعدم مذہبی تنظیم کے کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد سے تنظیم کے بیج وغیرہ برآمد ہوئے ہیں لیکن کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں تھا۔ ڈی آئی جی نے بتایا ہے کہ یہ لوگ کسی واردات کے لیے پہلے سے حالات کا جائزہ لے رہے تھے۔ ادھر تحفظ عزاداری کونسل کے سربراہ رحیم جعفری نے کہا ہے کہ ان دونوں افراد کی نشاندہی عزاداری کونسل کے سکاؤٹس نے کی ہے۔ ادھر عاشورہ سے پہلے دینی مدرسے پر چھاپے اور ایک طالبعلم کے پولیس فائرنگ سے زخمی ہونے کے بارے میں مدرسے کے مدرس قاری سلطان نے کہا ہے کہ ان کے طالبعلم نے کوئی فرار ہونے کی کوشش نہیں کی بلکہ پولیس نے دھاوا بول دیا تھا۔ معصوم اور کم عمر بچوں کو تنگ کیا گیا اور مہمانوں کو گرفتار کیا گیا جنھیں عاشورہ کے فورا بعد رہا کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا ہے کہ زخمی طالبعلم کو گولی لگی تھی اور اس کے زخم ابھی تک نہیں بھرے۔ اس بارے میں مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ پولیس نے اس بارے میں معذرت کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||