 |  فلپائن کی حکومت مسلمانوں کی روایات اور ثقافت کا احترام کرے: جنرل مشرف |
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شدت پسندی کو مسترد کردیں اور پاکستان کی طرح ’میانہ روی کا راستہ‘ اختیار کریں جس سے برداشت اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ منیلا میں فلپائن کی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مشرف نے فلپائن کے جنوب میں شورش زدہ علاقے کی مسلمان آبادی سے اپیل کی کہ وہ شدت پسندی کو رد کریں اور ملک کی سماجی اور اقتصادی بہبود میں شریک ہوں۔ جنرل مشرف نے اس موقع پر فلپائن کی صدر گلوریا ارویو سے بھی درخواست کی کہ ان کی حکومت کو مسلمانوں کی روایات اور ثقافت کا احترام کریں تاکہ وہ فلپائن کی باقی آبادی کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکیں۔ جنرل مشرف پیر کی رات کو بھارت کے دورے کے بعد منیلا پہنچے اور انہوں نے صدر گلوریا ارویو سے اسلامی شدت پسندی پر قابو پانے سمیت علاقائی سیکورٹی کے امور پر بات چیت کی۔ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد صدر ارویو نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں ملکوں نے آپس میں انٹیلی جینس کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے۔ صدر گلوریا ارویو نے کہا کہ پاکستان نے اپنے ملک میں جس طرح مدرسوں کے معاملات کو حل کررہا ہے فلپائن اس کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کے ایک قومی سلامتی امور کے مشیر جون میں پاکستانی ایجینسی آئی ایس آئی کے اہلکاروں سے ملاقات کریں گے۔ دونوں ملکوں نے دہشت گردی کی روک تھام کے لئے تعاون، ثقافتی تبادلے اور سرکاری اور سفارتی اہلکاروں کے لئے ویزے کی شرط ختم کرنے اور فلپائن سے سستی ادویات کی درآمد کے سلسلے میں معاہدوں پر دستخط بھی کئے۔ |