بلوچستان، پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے مسئلے پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو رہا ہے جس میں کمیٹی کے صدر چوہدری شجاعت حسین نواب اکبر بگتی سے جمعرات کو ہونے والی ملاقات کے بارے میں کمیٹی کو مطلع کریں گے۔ اس اجلاس میں بائیس مارچ کو ڈیرہ بگتی جانے والا حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان پارلیمان کا مشترکہ وفد بھی اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی سفارشات کمیٹی کو پیش کرے گا۔ تاہم حزب اختلاف اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں نے اس پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ کمیٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا دعوٰی ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیرِاعظم شوکت عزیز نے اس پارلیمانی کمیٹی کو بلوچستان کے مسئلے کے لیے ہر قسم کی مدد اور تمام اختیارات دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ادھر نواب اکبر بگتی کا کہنا ہے کہ ان سے ملاقات کرنے والے حکومتی وفد نے جس میں چوہدری شجاعت اور سینیٹر مشاہد حسین شامل تھے، ان کو حکومت کی طرف سے مسئلے کے حل کے لیے چند تجاویز پیش کی ہیں۔ سینیٹر مشاہد حسین نے بھی شجاعت۔بگتی ملاقات کو اہم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نواب اکبر بگتی نے اس مسئلے کے سیاسی حل پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات سے بلوچستان پر پایا جانے والا تعطل ٹوٹا ہے اور اب اس مسئلے کے حل کی طرف پیش رفت ہو گی۔ تاہم حزب اختلاف اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں نے اس پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت پہلے بلوچستان میں فوجوں کو تین جنوری سے پہلے کی پوزیشن پر واپس لائے تو تب ہی وہ اس کمیٹی میں شرکت کریں گے۔ چوہدری شجاعت نے اگرچہ پیر کو پالیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اشارہ دیا تھا کہ فوجوں کو پہلی پوزیشن پر واپس لانے کی تجویز حکومت نے مان لی ہے مگر ابھی تک فوج کو واپس نہیں بلایا گیا۔ ادھر صدر جنرل پرویز مشرف بھی حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمان سے آج ملاقات کر رہے ہیں جس میں بلوچستان کے مسئلے پر بھی بات ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||