مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد |  |
 |  ہوٹل کے ایک مہمان نے کھانے میں بال پائے جانے کی شکایت کی تھی۔ |
پاکستان کے وزیرِ سیاحت غازی گلاب جمال نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ کراچی کے شیریٹن ہوٹل کی انتظامیہ نے حکومت کو تحریری یقین دہانی کر وائی ہے کہ وہ اپنے ہوٹل کے کسی ملازم کو داڑھی نہ منڈوانے پر نوکری سے نہیں نکالیں گے۔ قومی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے چھ ارکان نے ایک توجہ دلاؤ نوٹس پر ایوان کو بتایا کہ کراچی کے شیریٹن ہوٹل کی انتظامیہ نے اپنے ملازمین کو ایک تحریری نوٹس جاری کیا ہے جس میں ملازمین کو چودہ مارچ تک اپنی داڑھیاں منڈوانے کے لیے کہا گیا ہے۔ حکم عدولی پر ان کو نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ وفاقی وزیر کا اس بارے میں یہ موقف ہے کہ یہ ہدایت نامہ ایک مہمان کی ہدایت پر جاری کیا گیا تھا جس نے کھانے میں بال پائے جانے کی شکایت کی تھی۔اس پر مجلس عمل کے ایک رکن ڈاکٹر فرید پراچہ نے کہا کہ یہ بال تو سر کا بھی ہو سکتا ہے تو کیا اس پر انتظامیہ تمام ملازمین کو گنجا ہونے کا حکم بھی دے گی۔ اس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ہوٹل کیوکہ نجی ملکیت میں ہے لہذا وہ حکومت کے دائرہ کار میں نہیں آتا مگر پھر بھی حکومت نے ان سے یہ یقین دہانی طلب کی ہے کہ وہ کسی بھی ملازم کو نوکری سے برخواست نہیں کریں گے۔
|