رنگیلا: حکومتی امداد مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے معروف کامیڈین رنگیلا کی صاحبزادی نےکہا ہے کہ انہیں اپنے والد کی علاج معالجے کے لیے حکومت کی دو لاکھ روپے کی امداد کی اب ضرورت نہیں ہے اور وفاقی وزیر کھیل اور ثقافت اس سلسلہ میں ان کے گھر آنے کی تکلیف نہ کریں۔ رنگیلا دو سال سے گردے جگر اور پھیھڑوں کے امراض میں مبتلا ہیں اور کوئی تین مہینے سے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ منگل کو وفاقی وزیر ثقافت، کھیل اور نوجوانوں کے امور محمد اجمل خان نے رنگیلا کے علاج معالجے کے لیے دو لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا تھاجو ان کی صاحبزدی فرح دیبا نے وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور حکومت کو کہا ہے کہ اگر انہیں اتنی تاخیر کے بعد نامور فنکار کی امداد کا خیال آ ہی گیا ہے تو پھر وہ یہ رقم کسی اور مستحق فنکار کو دے دیں کیونکہ اب ان کے والد کا علاج معالجہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کروا رہے ہیں۔ رنگیلا کی صاحبزادی فرح دیبا لاہور میں لیڈی جنرل کونسلر ہیں اور دوہفتے پہلے ہی حکمران مسلم لیگ کے شعبہ خواتین کی جوائنٹ سیکرٹری کا عہدہ اور پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ نواز میں شامل ہوگئی تھیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پارٹی چھوڑنے کی ایک وجہ ان کے والد کے علاج کے سلسلے میں مسلم لیگ کی حکومت کی بے اعتنائی بھی تھی۔ انہں نے کہا کہ ان کے والد تقریبا ایک ماہ تک شیخ زائد ہپستال میں داخل رہے اس دوران وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی ایک بار خیریت دریافت کرنے آئے تو سہی لیکن انہوں نے علاج کے لیے کوئی اقدام نہیں کیےاورہمارے خاندان نے نواز شریف کی پیش کش پر دو مہینے پہلے انہیں شریف میڈکل سٹی منتقل کر دیا ہے جہاں انہیں مکمل علاج کی سہولتیں میسر ہیں تو اب انہیں وفاقی وزیر کا فون آگیا ہے کہ وہ دولاکھ روپے کا امدادی چیک دینے کے لیے ان کے گھر آنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ چونکہ انہیں اب حکومتی امداد کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے اس لیے انہوں نے حکومت کو منع کر دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود بھی رنگیلا کے پرستار ہیں اور اکثر فون پر ان کی خیریت دریافت کرتے رہتے ہیں جبکہ رنگیلا بھی ان کی قدر کرتے ہیں۔ دومہینے پہلے شیخ زائد ہسپتال میں وزیر اعلی پنجاب کی رنگیلا کی عیادت کے موقع پر موجود ایک مقامی اخبار کے صحافی نے بتایا کہ اس ملاقات میں بھی رنگیلا نے سادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک سے زائد بار چودھری پرویز الہی کو کہا تھا کہ ’نواز شریف از گریٹ‘۔ لیکن ہر بار چودھری پرویز الہی اس بات کو ان سنی کرگئے۔ میاں نواز شریف اور چودھری پرویز الہی پہلے ایک ہی سیاسی جماعت میں تھے اور ان کے آپس میں اچھے تعلقات تھے لیکن اب وہ سیاسی حریف ہیں ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||