لاہور: گیس لائن دھماکے سے اڑ گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے نزدیک قدرتی گیس فراہم کرنے والی پائپ لائن ایک دھماکے سے اڑ گئی جس کے لاہور کےجنوبی حصے اور ملحقہ علاقوں میں گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ سوئی گیس کے حکام نے اسے تخریب کاری قرار دیا ہے جب کہ بلوچ قوم پرست بلوچ تنظیم، بلوچ فرنٹ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ لاہور کے جنوب میں کوئی ستر کلومیٹر کے فاصلے پر واقع آبادی چھانگا مانگا کے ایک گاؤں چکوکی کے پرچون فروش یاسین عرف پپو نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی شب تقریبا سوا نو بجے اس نے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی جس سے ان کا پورا گاؤں لرز اٹھا اور گاؤں کے سب لوگ پریشان ہوگئے۔ قصور پولیس کنٹرول کے مطابق یہ دھماکہ سوئی گیس کی پائپ لائن میں ہوا تھا۔ سوئی گیس حکام کے مطابق قدرتی گیس کی یہ اٹھارہ انچ قطر کی پائپ لائن ہے ملتان سے لاہور تک آتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلوکی میلسی لنک کینال کے اوپر یہ پائپ لائن ایک زور دار دھماکے سے پھٹ گئی جس سے پتوکی سے لے کر لاہور کے جنوبی حصے تک سوئی گیس کی فراہمی بند ہوگئی۔ بعد میں رات گئے لاہور کے شمالی حصے سے یعنی شاہدرہ کی جانب سے کچھ متاثرہ حصوں کو گیس کی فراہمی بحال کر دی گئی۔شمالی حصوں کو گیں ایک اور پائپ لائین کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔ سوئی نادرن کے منیجنگ ڈائریکٹر رشید اے لون کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کام شروع کر دیا ہے اور توقع ہے کہ سنیچر کی دوپہر تک مرمت کا کام مکمل ہوجائےگا۔ سوئی گیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ تخریب کاری ہے لیکن حتمی رپورٹ بعد میں مل سکے گی۔ قصور پولیس کے ایک پولیس افسر نے کہا ہے کہ اس واقعہ کو فوری طور پر تخریب کاری قرار نہیں دیا جاسکتا تاہم تفتیش جاری ہے۔ ادھر کوئٹہ میں ہمارے نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ بلوچ فرنٹ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبل کر لی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||