ایڈز پھیلانے کے بیان پر واک آؤٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کی شام سینیٹ میں حزب اختلاف نے مذہبی امور کے وزیر کے دینی مدارس پر ایڈز پھیلانے کے بیان اور ’قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ‘ کے نفاذ میں تاخیر کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے دو بار واک آؤٹ کیا۔ وزیرمملکت برائے مذہبی امور عامر لیاقت حسین نے منگل کے روز ایڈز سے متعلقہ معلومات پر مبنی’ کٹ‘ کے اجراء کی تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ کچھ دینی مدارس میں جنسی تشدد ہوتا ہے جبکہ بعض مدارس اور ہیجڑے اس مرض کو پھیلانے میں کردار ادا کرتے ہیں، جسے روکنا ہوگا۔ مذہبی جماعتوں کے اراکین نے ایوان میں وزیر کے بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مدارس کی توہین کی ہے۔ وزیر نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بیشتر مدارس میں ایسا نہیں ہوتا البتہ ایک فیصد مدارس میں جنسی تشدد ہوتا ہے اور اس سے ایڈز پھیلنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کو حقائق چھپانے کے بجائے مسائل کو حل کرنے کے لیے بہادرانہ اقدامات کرنے چاہیے۔ اس پر ایوان میں شدید ہنگامہ ہوگیا اور حزب مخالف کے سینیٹر پروفیسر ابراہیم اور دیگر ارکین نے متعلقہ وزیر کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے جو کارروائی سے حذف کردیے گئے۔ جس پر حزب مخالف نے احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ قبل ازیں حزب مخالف نے مالی وسائل کی تقسیم کے نئے فارمولے’این ایف سی ایوارڈ‘ کے نفاذ میں تاخیر کو آئین کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا۔ حزب مخالف کے سینیٹرز نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی اور ایوان سے علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ واضح رہے کہ آئین کے مطابق ہر پانچ برس کے لیے صوبوں اور وفاق کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کا نیا فارمولہ اتفاق رائے سے نافذ کیا جاتا ہے۔ اس بار کسی فارمولے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ رضا ربانی نے نکتہ اعتراض پر ایوان کی توجہ بدھ کے روز’این ایف سی ایوارڈ کمیٹی‘ میں صوبہ سندھ کے رکن عبدالکریم لودھی کے مستعفی ہونے کی خبر کی جانب مبذول کرائی۔ ربانی کے مطابق انہوں نے استعفیٰ اس لیے دیا ہے کیونکہ وفاق چھوٹے صوبوں بالخصوص سندھ کے جائز موقف کو تسلیم نہیں کرتا۔ حزب مخالف کے رہنما نے کہا کہ موجودہ حکومت آئینی تقاضا پوری کرنے میں ناکام ہوئی ہے اور حکومت کے اقدامات کی وجہ سے صوبائی ہم آہنگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ وزیر مملکت برائے مالیات، عمر ایوب خان نے حزب مخالف کا موقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ کسی صوبے کی حق تلفی نہ ہو اور تمام صوبوں میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||