BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 September, 2004, 11:06 GMT 16:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیوکلیئر بِل سینیٹ سے منظور

نیوکلیئر کمانڈ کنٹرول کی میٹنگ
نیوکلیئر کمانڈ کنٹرول کی میٹنگ
پاکستان میں حکومت نے سنیچر کے روز جوہری، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق اشیاء، ٹیکنالوجی، مواد اور سازو سامان کی برآمد کے کنٹرول کا آئینی بل ایوان بالا سینیٹ سے بھی اکثریت رائے سے منظور کرا لیا ہے۔

سنیچر کے روز عام طور پر اجلاس نہیں ہوتا لیکن حکومت نے خصوصی طور پر اجلاس بلا کر یہ بل منظور کرایا۔

یہ بل حکومت نے قومی اسمبلی سے بھی خصوصی سیشن بلا کر چودہ ستمبر کی شام کو منظور کرایا تھا۔اب صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
حزب اختلاف نے عجلت میں بل منظور کرائے جانے کے خلاف حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی اور تجویز دی کہ متعلقہ کمیٹی کو بھیجا جائے لیکن حکومت نے قواعد معطل کرتے ہوئے بل منظور کرا لیا۔

وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے پاکستان جوہری ، کیمیائی اور حیاتیاتی اسلحہ اور میزائل جو ایسے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں، ان کے پھیلاؤ کا سخت مخالف ہے اور اس بل کی منظوری اس عہد کی عکاسی کرتی ہے۔

سینیٹ میں بل پر بحث کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے سینیٹر مولانا ہدایت اللہ اور دیگر ارکان نے کہا کہ پاکستان جوہری ٹیکنالوجی سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک کو فراہم کرے تاکہ مسلمان ممالک طاقتور بن سکیں۔ بعض مقررین نے کہا کہ علم منتقل کرنے پر پابندی غیر اسلامی قدم ہوگا۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر اور فاروق ایچ نائک نے شِق وار بِل کا جائزہ لیتے ہوئے قانونی پیچیدگیوں کی نشاندہی کی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائیل سمیت مختلف صنعتوں میں بعض آلات ایسے استعمال ہوتے ہیں جوکہ جوہری ہتھیار بنانے میں بھی کام آتے ہیں۔ انہوں نے بل پر تفصیلی غور کرنے اور کمزوریوں کو دور کرنے کے بعد منظور کرنے کی تجاویز دیں۔

وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے حزبِ اختلاف کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا ڈرافٹ تیار کرتے وقت تمام معاملات کا خیال رکھا گیا تھا اور اس سے تجارتی برآمدات متاثر نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ قانون امریکی خواہش پر نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی منظور کردہ ایک قرارداد کا تقاضا پورا کرنے کے لیے بنانا ضروری تھا اور پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جو عالمی تقاضے پورے کرتا ہے۔

اس قانون کے تحت جوہری، حیاتیاتی اور کیمیائی اسلحہ سے متعلق مواد اور ساز و سامان کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

اس قانون کے مطابق حکومت کے مجاز افسر کی درخواست پر مقدمے کی سماعت سیشن جج کرے گا۔جرم کے مرتکب شخص کو چودہ سال قید یا پچاس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔ سزا یافتہ شخص کی تمام جائیداد جہاں کہیں بھی ہو وہ بحق سرکار ضبط ہوجائے گی۔

سزا پانے والے شخص کو فیصلے کے تیس دن کے اندر عدالت عالیہ میں اپیل دائر کرنی ہوگی۔

واضح رہے کہ یہ قانون حکومت نے عجلت میں اس وقت منظور کرایا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کا اجلاس شروع ہورہا ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف نیویارک روانہ ہونے والے ہیں۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل عالمی اٹامک انرجی کمیشن نے پاکستان سے جوہری مواد اور معلومات دیگر ممالک کو فراہم کرنے پر وضاحت طلب کی تھی۔

جس کے بعد پاکستان حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ذاتی لالچ کی خاطر دیگر ملکوں کو جوہری معلومات، سازوسامان اور دیگر مواد فراہم کیا ہے اور اس میں حکومت کسی طور بھی اس ملوث نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد