سینیٹ میں شدید ہنگامہ آرائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدوں پر فائز رہنے کے متعلق بل پر ملک کی سینیٹ میں جمعرات کو حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی برپا ہوگئی۔ فریقین میں گالم گلوچ بھی ہوئی اور ایک دوسرے کو مارنے اور لڑنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ البتہ دونوں جانب کے اراکین میں ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔ اجلاس اب جمعہ کی صبح تک ملتوی کردیا گیا۔ سینیٹ میں جمعرات کو جس طرح ہنگامہ آرائی ہوئی اور ارکان ایک دوسرے کو گالیاں دیتے رہے ایسا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ سینیٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے بعد حکومت نے صدر کے دو عہدے رکھنے کا بِل منظور کرانا چاہا لیکن حزب اختلاف کی جانب سے بِل کو قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجے جانےکی تحریک پیش کی گئی، جس کی حکومت نے مخالفت کردی۔ حزب مخالف کے ڈاکٹر صفدر عباسی اور دیگر ارکان نے کہا کہ قومی اسمبلی سے یہ بل حکومت نے عجلت میں منظور کرایا ہے اور سپیکر نے قوائد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اراکین کو بحث کی اجازت نہیں دی تھی۔ حزب اختلاف کے موقف کو غلط قرار دیتے ہوئے قائد ایوان وسیم سجاد نے وضاحت کی کہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین نہ صرف بحث کی تھی بلکہ قائمہ کمیٹی میں حزب اختلاف کے اراکین نے اختلافی نوٹ بھی لکھا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی کارروائی کے متعلق اس ایوان میں بحث نہیں ہونی چاہیے۔ اس دوران وزیر قانون محمد وصی ظفر نے کہا کہ حزب مخالف غلط بیانی کر رہی ہے۔ جس پر رضا ربانی اور دیگر حزب مخالف کے اراکین نے وزیرقانون پر ’لوٹا لوٹا‘، ’نو نو‘ اور ’شیم شیم‘ کی آوازیں دیں اور ڈیسک بجائے۔ حزب مخالف کے نعروں اور ’ہوٹنگ‘ پر وزیر قانون غصہ کھا گئے اور اس دوران رضا ربانی اور وزیر قانون ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے رہے اور مارنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں اپنی نشستیں چھوڑ کر ایک دوسرے کو مارنے کے لیے چڑھ دوڑے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے رہے۔اس دوران ڈاکٹر صفدر عباسی اور دیگر ان کے حامی بھی نشتیس چھوڑ کر آگے آگئے۔ رضا ربانی اور وصی ظفر گتھم گتھا ہونے والے تھے کہ حکومت اور حزب مخالف کے اراکین دونوں کو جھپیاں ڈال کر دور لے گئے اور ہاتھا پائی سے انہیں روک دیا۔ چیئرمین جب ہنگامہ آرائی پر قابو پانے میں ناکام رہے تو نماز ظہر کے وقت سے آدھا گھنٹہ قبل ہی نماز کو عذر بنا کر اجلاس کی کارروائی مختصر وقت کے لیے ملتوی کر دی۔ وقفے کے بعد اجلاس شروع ہوا تو صدر کے دو عہدوں کے متعلق بل پر بحث شروع ہوئی اور حزب اختلاف کے اراکین نے حکومت اور صدر جنر پرویز مشرف پر کڑی نکتہ چینی کی۔ پروفیسر ساجد میر، رضا محمد رضا، رحمت اللہ کاکڑ اور دیگر اراکین نے جنرل پرویز مشرف کے دو عہدوں کے اس بل کی منظوری سے پارلیمان کی حیثیت ختم ہوجائے گی اور یہ قدم خلاف آئین ہے۔ حزب مخالف والوں نے کہا کہ اگر دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے صدر مشرف کے لیے فوجی وردی ضروری ہے تو امریکی صدر جارج بش تو دنیا بھر میں لڑ رہیں اور انہوں نے کوئی وردی نہیں پہن رکھی۔ حکومت کی جانب سے ملکی وغیر ملکی حالات کے بدولت’قومی مفاد، میں صدر کا دونوں عہدوں پر رہنے کو ضروری قرار دیا گیا۔ بحث جاری تھی کہ اجلاس کی مزید کاروائی جمعہ کی صبح تک ملتوی کردی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||