آئی ایس آئی کے خلاف احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں جمعرات کو حزب مخالف نےقومی احتساب بیورو اور خفیہ ایجنسی’ آئی ایس آئی‘ کے خلاف کڑی تنقید اور سخت احتجاج کیا۔ احتساب بیورو کی جواب طلبی کرنے کے معاملے پر حکومتی اراکین نے حزب مخالف کی حمایت کردی۔ حکومتی بینچوں میں پہلی بار اختلاف رائے اس وقت کھل کر سامنے آیا جب قائد ایوان وسیم سجاد کی مخالفت کے باوجود بھی مشاہد حسین اور نثار میمن سمیت متعدد حکومتی سینیٹرز نے حزب مخالف کی تجویز کے مطابق احتساب بیورو کے حکام کو کمیٹی میں طلب کرنے کی حمایت کردی۔ وقفہ سوالات کے دوران حزب مخالف کے رکن فرحت اللہ بابر کے سوال کے جواب میں وزیراعظم سیکریٹریٹ کی جانب سے تحریری طور پر ایوان کو بتایا گیا کہ احتساب بیورو نے موجودہ کابینہ میں شامل چار وزراء سمیت حکومت میں شامل چھ اہم شخصیتوں کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے تحت کارروائی کی۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ، وزیرِ امورِ کشمیر فیصل صالح حیات، وزیر صنعت جہانگیر خان ترین اور وزیر پانی و بجلی لیاقت جتوئی کے خلاف بدعنوانی، قرضہ واپس نہ کرنے اور اختیارات کا غیرقانونی استعمال کرنے کے الزامات کے تحت کارروائی ہوئی۔ آفتاب احمد شیرپاؤ اور فیصل صالح حیات کے خلاف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ جبکہ نیب کے مطابق جہانگیر ترین کے خلاف ایک جبکہ لیاقت جتوئی کے خلاف دو الزامات کی فائل بند کردی گئی ہے جبکہ ایک مقدمے میں جتوئی کے خلاف اب بھی تحقیقات ہورہی ہیں۔ حکومت کی پیش کردہ معلومات میں کہا گیا ہے کہ سرور خان کاکڑ کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثہ جات رکھنے کے الزامات کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ سید مشاہد حسین کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت تحقیقات ختم کردی گئی ہیں۔ حزب مخالف کے سینیٹرز نے قومی احتساب بیورو ’نیب‘ پر سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں، غلط معلومات پیش کرنے اور مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات بنانے کے الزامات عائد کیے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نے یہ الزامات مسترد کردیے اور نیب کا دفاع کیا۔ جس پر سید مشاہد حسین سمیت بعض حکومتی بینچوں کے سینیٹرز نے نیب پر حزب مخالف کی جانب سے لگائے گئے غلط معلومات کے الزامات کی تائید کی ۔ سید مشاہد حسین جو کہ حکمران مسلم لیگ کے مرکزی سیکریٹری جنرل بھی وزراء سے کہا کہ نیب نے جو غلط کیا اسے غلط کہیں اور بیوروکریٹس کا بلاجواز دفاع نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حزب مخالف کے رضا ربانی نے نیب کے متعلقہ حکام کی جواب طلبی کے لیے ایوان کی کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی۔ جس کی قائد ایوان وسیم سجاد اور وزراء نے مخالفت کردی۔ حزب اختلاف کے اراکین کمیٹی بنانے کے لیے اسرار کرتے رہے۔ حکومتی بینچوں سے سید مشاہد حسین اور نثار میمن حزب مخالف کی کمیٹی کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کھڑے ہوگئے۔ حکومتی سینیٹر جب قائد ایوان کے موقف کے خلاف ہوگئے تو وسیم سجاد نے معاملہ ایوان کی استحقاق کمیٹی کے سپرد کرنے کی حمایت کی اور قائم مقام چیئرمین سینیٹ خلیل الرحمٰن نے ووٹنگ کے بعد تحریک متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردی۔ ایوان میں حزب مخالف کی تحریک پر خفیہ ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ کے سربراہ کو گریڈ سولہ اور اس سے اوپر کے تمام عہدوں پر براہ راست بھرتیوں کا اختیار دینے کے بارے میں منظور کردہ بل پر بھی بحث کرائی گئی۔ پہلے ان بھرتیوں کا اختیار فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو حاصل تھا۔ بحث کے دوران حزب مخالف نے’آئی ایس آئی‘ پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اصل کام چھوڑ کر سیاست میں ملوث ہوگیا ہے جس سے اس کی کارکردگی سخت متاثر ہوئی ہے۔ بعض سینیٹرز نے خفیہ ایجنسی پر سنگین الزامات بھی عائد کیے جو افسر صدارت نے کارروائی سے حذف کردیے۔ حکومت کی جانب سے ’آئی ایس آئی‘ کے سابق سربراہ جاوید اشرف سمیت کئی وزراء نے حزب مخالف کی تنقید اور الزامات مسترد کردیے اور براہ راست بھرتی کو درست قرار دیتے ہوئے دیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی مثالیں بھی دیں۔ وزیر تعلیم جاوید اشرف نے’آئی ایس آئی‘ پر بھارت سے جہاز اغوا کرنے اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ایسے الزامات دشمن ملک لگاتے ہیں۔ حزب مخالف کے رہنما رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام سویلین اداروں کو فوج زدہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آئی ایس آئی انتخابات میں ملوث رہی اور چیئرمین سینیٹ کا فیصلہ کرنے کے لیے ان کے ’میس‘ میں اجلاس ہوا۔ جب یہ ایجنسی ایسے کام کرے گی تو اس پر تنقید بھی ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||