بات چیت کا سلسلہ بند نہ ہو: گجرال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے سابق وزیر اعظم اندر کمار گجرال نے کہاہے کہ اگرچہ انہیں خدا پر اعتقاد ہے لیکن انہیں معلوم نہیں کہ خدا بھی کشمیر کا ایسا حل جانتا ہوگا یا نہیں جو دنوں ملکوں کے عوام اور دونوں ملکوں کی سرکاروں کو بھی منظور ہو۔ وہ جمعہ کے روز لاہور پریس کلب میں ذرائع ابلاغ کے نمائندگان کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔اس موقع پر وہ خوشگوار موڈ میں دکھائی دیئے، تاہم انہوں نے ہر سوال کا مختصر جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک ایک عرصے کے بعد آہستہ آہستہ عقل کی بات کرنا شروع ہوگئے ہیں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ سلسلہ بند نہ ہو اور بات سے بات چلے۔ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ایسے ہی یہ بات نہیں بتا سکتے کہ یہ مسئلہ کب حل ہوگا جیسے گاندھی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا کہ آزادی کب نصیب ہوگی۔ انہوں نے اس موقع پر غالب کا ایک شعر بھی پڑھا ان کے اس شعر کے جواب میں ایک سنیئر صحافی نے برجستہ شعر پڑھا کہ آئی کے گجرال نے کہا کہ ’وہ حکومت میں ہیں نہ کسی حکومتی پارٹی میں شامل ہیں اس لیے اگر صحافیوں نے کان پکڑنا ہے تو میرا نہ پکڑیں بلکہ کسی اور کا پکڑیں۔‘ پاکستان میں عام طور پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کہا جاتا ہے۔ سابق وزیر اعظم سے جب ایک صحافی نے اپنے سوال کے دوران لفظ ’مقبوضہ کشمیر‘ استعمال کیا تو آئی کے گجرال نے اس لفظ کو دہرا کر اپنے ساتھ بیٹھی انسانی حقوق کمیشن کی عہدیدار عاصمہ جہانگیر کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھا جس پر انہوں نے انہیں بتایا کہ اس سے مراد بھارت کے زیر انتظام کشمیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ روزانہ صبح انٹر نیٹ پر پاکستان کے اخبارات پڑھتے ہیں بہت سے ایسے اخبار ہیں جو وہ پڑھتے ہیں تو ان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور کچھ ایسے بھی جنہیں پڑھ کر ان کا دل جلتا ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاک بھارت مذاکرات امریکہ کی آشیر باد سے ہو رہے ہیں تو انہوں نے اس کی تردید کی اورکہا کہ ’یہ تو آپ خود ہی بتائیں کہ کیا آپ کو امریکہ سے آشیر باد ملی ہے؟‘ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ایک غیر جانبدار ادارہ نہیں ہے اور اس سمیت کوئی بھی تیسرا فریق پاکستان اور بھارت کے معاملات میں ملوث ہوا تو اس کا نقصان دونوں ممالک کو ہوگا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ ان کے خیال میں پاکستان کے فوجی حکمران اور سیاسی حکمرانوں میں سے کون زیادہ بہتر انداز میں بھارت سے معاملات ٹھیک کر سکتا ہے تو ان کا جواب تھا کہ وہ بنیادی طور پر جمہوریت پسند ہیں لیکن پاکستان کے عوام بہتر جانتے ہیں کہ ان کے ملک میں کیا ہونا چاہیے۔ ’پاکستانیوں کو جو پسند ہے وہ وہی کریں مجھے جو پسند ہے میں وہ کروں گا‘۔ انہوں نے گجرات کے معاملات کو بھارت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ قرار دیا اور کہا کہ بھارت کی عوام نے انتخابات میں حکومت کو اس کی سزا دے دی ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’آپ (پاکستانی ) انہیں اچھا سمجھیں یا برا سمجھیں وہ آپ کے شہری ہیں لیکن ایک بات کا انہیں یقین ہے کہ نواز شریف ہندوستان اور پاکستان کے عوام کی دوستی کے کسی سے بھی زیادہ حق میں تھے۔ ’ان کے ساتھ انہوں نے بطور وزیر اعظم پاکستان بھارت مذاکرات کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ آج بھی کسی نہ کسی طرح سے جاری ہے اور اسلام آباد میں جنرل پرویزمشرف اور واجپئی ملاقات اور واشنگٹن میں پرویز مشرف من موہن ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑیاں ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اب بھی کبھی کبھار ان کی نواز شریف سے بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ انہیں اردو میں پوچھے گئے اکثر سوال سمجھ نہیں آرہے تھے اور ہر سوال کے بعد وہ اپنے برابر بیٹھے ہوئے پریس کلب کے عہدیداروں سے دوبارہ سوال پوچھتے۔ سوال پنجابی میں دھرایا جاتا تو تب جا کر ان کی سمجھ میں آتا۔ کئی صحافیوں نے ان سے پنجابی میں سوال کیے جس کے انہوں نے براہ راست جواب دیے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی بیوی لاہور کی مٹھائی کے انتظار میں ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے لاہور میں آٹھ سال تعلیم حاصل کی اور ایم اے بھی یہیں سے کیا اور ان کی شادی بھی لاہور کی لڑکی سے ہوئی۔ انہوں نے خوشگوار لہجے میں کہاکہ اس لحاظ سے وہ لاہور کے داماد بھی ہیں۔ انہوں نے ایک شعر بھی سنایا کہ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||