القاعدہ پر کاری ضرب: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف نے انتہائی مطلوب امجد حسین فاروقی کی ہلاکت کو القاعدہ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ اس سے قبل وزیرِ اطلاعات شیخ رشید نے تصدیق کی تھی کہ نوابشاہ میں اتوار کی صبح کی جانے والی کارروائی میں ہلاک کیے جانے والے انتہائی مطلوب امجد فاروقی تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ القاعدہ کے سرکردہ رکن تھے اور صدر جنرل مشرف پر کیے جانے والے ناکام قاتلانہ حملے اور امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل کے سلسلے میں بھی مطلوب تھے۔ پاکستانی حکومت کا اب یہ کہنا ہے کہ امجد فاروقی نوابشاہ میں سکیورٹی اہلکاروں سے ہونے والے ایک مقابلے میں ہلاک ہوگئے۔ اس سے پہلے کراچی سے عروج جعفری نے اس بارے میں بتایا تھا کہ صوبہ سندھ کے شہر نواب شاہ کے محلے غلام حیدر شاہ کالونی میں اتوار کی صبح نو بجے مبینہ سکیورٹی اہلکاروں نے ایک گھر پر چھاپہ مارا اور ایک مبینہ دہشت گرد کو ہلاک کردیا اور گھر کے چھ افراد کو حراست میں لے لیا۔ جن میں دو عورتیں اور دو بچے بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا کہ یہ افواہ کیسے اور کس نے پھیلائی کہ ہلاک کیا جانے والا انتہائی مطلوب امجد فاروقی بھی ہو سکتا ہے جس پر دو کروڑ روپے کا انعام ہے۔ امجد فاروقی کا نام ان چھ افراد میں بھی شامل ہے جن پر دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث ہونے کے علاوہ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف پر دو بار قاتلانہ حملے منظم کرنے کا بھی الزام ہے اور جن کے القاعدہ سے بھی قریبی تعلق بتایا جاتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ امجد فاروقی اور اس کے ساتھ رہنے والے لوگ اب سے ڈیڑھ ماہ قبل اس محلے میں بطور کرائے دار رہائش پذیر ہوئے تھے۔ مقامی اخبار نویسوں کے مطابق یہ گھر حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کے ایک ملازم یعقوب راجپر کا ہے۔ جنہوں نے مذکورہ افراد کو یہ گھر محلے کے الہدی نامی سکول کے اساتذہ کے کہنے پر دیا تھا۔مقامی لوگوں کے مطابق امجد الہدی سکول میں عربی زبان کی تعلیم دیتے تھے۔ رات گئے تک علاقے کی ناکہ بندی جاری تھی اور مقامی لوگوں میں خوف و حراس پایا جاتا ہے۔ نواب شاہ میں مختلف اخبارات کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے مقامی طور پر کسی کو اس بارے کوئی علم نہیں کہ کارروائی کس نے کی اور امجد فاروقی کا تعلق کس دہشت گرد تنظیم سے تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||