BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 September, 2004, 13:21 GMT 18:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائل پرپابندیاں اٹھانے کا اعلان

وزیر اعظم شوکت عزیز نے پشاور میں جرگے سے خطاب کیا
وزیر اعظم شوکت عزیز نے پشاور میں جرگے سے خطاب کیا
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے آج پشاور میں ایک قبائلی جرگے سے خطاب میں جنوبی وزیرستان کے احمدزئی وزیر قبائل پر سے اقتصادی پابندیاں غیرمشروط طور پر اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ پابندیاں اس سال اٹھائیس مئی کو اس قبیلے پر حکومت کے ساتھ القاعدہ کے غیرملکی عناصر کے خلاف کارروائی میں مدد نہ کرنے پر نافذ کی گئی تھیں۔

وزیر اعظم شوکت عزیز نے پابندیاں اٹھانے کا اعلان تمام سات قبائلی ایجنسیوں سے آئے ہوئے تقریبا پانچ سو قبائلی عمائدین کے ایک جرگے میں کیا۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم نے قبائلی علاقوں کے لئے ترقیاتی بجٹ میں بھی ایک ارب روپے کے اضافے کا اعلان کیا جس میں سے پچاس کروڑ روپے فوری طور پر جاری کر دیے جائیں گے۔

شوکت عزیز نے، جن کا وزارت عظمی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد پشاور کا یہ پہلا دورہ تھا، اپنے خطاب میں قبائلیوں سے مل کر مذاکرات کے ذریعے غیرملکی عناصر کا قضیہ حل کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل غیرملکیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں جن کی وجہ سے پاکستان اور اسلام کی بدنامی ہوئی ہے۔

وزیر اعظم کے مطابق غیرملکی پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور انہیں کچل دیا جائے گا۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنوبی وزیرستان میں مشتبہ عسکریت پسندوں اور سیکورٹی دستوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان جھڑپوں میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ڈیڑھ سو مشتبہ شدت پسند ہلاک کئے جا چکے ہیں۔

وزیر اعظم شوکت عزیز کی جانب سے پابندیاں اٹھانے کے اعلان سے جنوبی وزیرستان میں خوشی اور اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔

اس سال اٹھائیس مئی کو احمدزئی وزیر قبائل پر لگائی گئی ان پابندیوں کے تحت وانا کے رستم بازار اور دیگر شہروں میں اُن کے کاروبار، ہزاروں دکانیں اور ٹرانسپورٹ بند کر دی گئی تھیں جبکہ کئی قبائلیوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

اس سے اس پسماندہ علاقے کی چھوٹی موٹی معیشت ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ اب امید کی جا رہی ہے کہ وانا کے رستم بازار میں ایک مرتبہ پھر چل پہل لوٹ آئے گی۔ البتہ کئی متاثرہ قبائلیوں کا کہنا تھا کہ وہ اس عرصے میں انہیں پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کس سے طلب کریں۔

ادھر وانا سے موصول اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد نے کل رات اور آج صبح بھی سکاؤٹس کیمپ کو راکٹوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، البتہ راکٹ ہدف سے دور گرے۔ جواب میں سیکورٹی فورسز نے بھی کارروائی کی لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد