شوکت کے مقابل ایم ایم اے کے امیدوار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل نے ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت کے اعلان کردہ مستقبل کے وزیر اعظم شوکت عزیز کے خلاف اپنے امیدواروں کا فیصلہ کر لیا ہے تاہم ان کے امیدواروں کے ناموں کا رسمی اعلان بدھ کو کیا جاۓگا۔ مجلس عمل کے رہنما اور جمعیت علماۓ اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ریاض درانی نے بتایا کہ ایم ایم اے کی سپریم کونسل کے اجلاس میں دو ناموں پر اتفاق راۓ کیا گیا جس کے مطابق قومی اسمبلی کی نشست کے لیے تھر پارکر سے جماعت اسلامی سندھ کے امیر ممتاز علی میمن اور اٹک سے جے یوآئی کے رہنما، پنجاب کے سابق صوبائی وزیر قاری سعید الرحمان اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔ اجلاس میں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے ملکر شوکت عزیز کے خلاف ایک متفقہ امیدوار لانے کے معاملہ پر بھی غور کیا گیا۔ ایم ایم اے کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ وہ سات جولائی کی شام تک اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کی ایسی کسی پیشکش کا انتظار کریں گے اور اس معاملہ پر کسی دیگر جماعت سے مفاہمت نہ ہونے کی صورت میں آٹھ جولائی کو ایم ایم کے امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرادیں گے۔ جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ریاض درانی کا کہنا ہے کہ اے آر ڈی کی جماعتیں خود آپس میں اتفاق راۓ سے ایک امیدوار کا فیصلہ نہیں کر سکیں اس لیے ان سے کسی طرح کی انتخابی افہام و تفہیم مشکل ہے تاہم کسی بھی جماعت کی طرف سے آنے والی ایسی کسی بھی تجویز کا مثبت جواب دیا جاۓگا۔ حکمران جماعت کے دو اراکین اسمبلی نے تھر پارکر اور اٹک سے دو نشستیں خالی کر دیں ہیں تاکہ حکمران جماعت کے اعلان کردہ وزیر اعظم شوکت عزیز ان نشستوں سے انتخابات لڑ سکیں اور قومی اسمبلی تک پہنچ سکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||