سیاسی یا ذاتی دشمنی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نواز گروپ کے رہنما پیر بنیامن رضوی جنھیں ہفتہ کے روز لاہور میں قتل کردیا گیا تھا ان کی نماز جنازہ اتوار کی صبح دس بجے لاہور میں ادا کی جارہی ہے۔ ان کی میت تدفین کے لیے ضلع گجرات میں ان کے آبائی قصبہ پھالیہ لے جائی جائے گی۔ جہاں مسلم لیگ(ن) بنیامن کے قتل کے پیچھے سیاسی محرکات کی بات کررہی ہے پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہوسکتا ہے۔ ہفتہ کی سہ پہر لاہور میں چھیالیس سالہ پیر بنیامن کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔ ان کا ڈرائیور اور گن مین بھی اس حملہ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ گارڈن ٹاؤن پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ان کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس پیر بنیامن کے قتل کے پیچھے ذاتی دشمنی کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ لاہور پولیس کے سربراہ طارق سلیم ڈوگر نے کہا ہے کہ جب پیر بنیامن رضوی شہباز شریف کی وزارت اعلی میں صوبائی وزیر تھے تو ان کے علاقہ میں ان کے مخالف سیاسی گرہ کے ایک فرد میجر اعظم کا قتل ہوا تھا۔ اس قتل کا الزام اس دور میں پیر بنیامن پر بھی لگایا گیا تھا اور آج بھی منڈی بہاؤالدین کی سیشن عدالت میں ان کے خلاف اسغاثہ چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی ازدواجی زندگی بھی ناخوشگوار تھی۔ وہ اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے چکے تھے۔ دوسری طرف مسلم لیگ نواز گروپ کے ایک ترجمان زعیم قادری نے بی بی سی کو کہا کہ یہ ایک سیاسی قتل ہے اور ان کی پارٹی اس پر چار روز تک سوگ منانۓ گی۔ پیر بنیامن کے والد پیر یعقوب شاہ سنی بریلوی مکتب کے بڑے رہنما مانے جاتے تھے اور رکن صوبائی اسمبلی بھی رہے۔ پھالیہ اور اس کے قریب منڈی بہاوالدین کا علاقہ ذاتی دشمنیوں کا مرکز مانا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||