BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 May, 2004, 11:53 GMT 16:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہمارے جلوس روکے گئے: لیگی رہنما

پولیس
حکومت پر استقبالیہ جلوس روکنے کا الزام
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما راجہ ظفرالحق نے دعویٰ کیا ہے کہ شہباز شریف کے استقبال کے لئے صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں سے لاہور جانے والے جلوسوں کو پولیس نے روک لیا ہے اور متعدد کارکنان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پشاور، راولپنڈی، ساہیوال، اوکاڑہ، شیخوپورہ، ملتان ، منڈی بہاؤالدین اور دیگر شہروں سے لاہور آنے والے جلوسوں کو پولس نے روک لیا ہے اور کئی مقامات پر پولیس اور کارکنان میں جھڑپوں کی بھی انہیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

مسلم لیگ کے رہنما ظفراقبال جھگڑا کے مطابق کئی گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے کو سواں پل کے پاس کافی دیر روکے رکھا گیا تو کارکن مشتعل ہوگئے اور پولس سے ان کی جھڑپیں ہوئیں۔

جھگڑا کا دعویٰ تھا کہ سواں پل سے مندرہ اور دینہ تک پولیس کے ساتھ ان کی کئی جھڑپیں ہوئی ہیں اور مندرہ میں جب ان پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے بعد کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان جھگڑوں میں ان کی جماعت کے بہت سے کارکنان زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ درجنوں کارکنان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جس کے بعد انہوں نے جلوس کی صورت میں لاہور جانے کا فیصلہ ترک کرکے کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ جو بھی ہو جیسا بھی کسی طریقے سے لاہور پہنچیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو بتایا ہے کہ جلوسوں پر ہلکا پھلکا لاٹھی چارج ہوتا رہتا ہے اور گرفتاریاں بھی ہوئی ہوں گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کو صحیح تعداد معلوم نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد