BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 May, 2004, 11:08 GMT 16:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیگیوں اور پولیس کی جھڑپیں

حمزہ شہباز
حمزہ شہباز پاکستان میں موجود شریف خاندان کے واحد فرد ہیں
شہباز شریف کی آمد سے چند گھنٹے پہلے پولیس اور مسلم لیگ (نواز) کے کارکنوں کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں اور متعد لیگی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں مسلم لیگ کے کئی رہنما شامل ہیں جنہیں پولیس کے مطابق مسلم لیگ کے جلسہ گاہ پہنچنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس اور لیگی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب اے آر ڈی کح مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے جین مندر کے قریب جلوس نکالنے کی کوشش کی۔

جلوس کی قیادت کرنے والے لیگی رہنماؤں چوہدری نثار علی خان، سردار ذوالفقار کھوسہ، تہمینہ دولتانہ، پیپلز پارٹی لاہورکے جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اور ایڈیشنل جنرل سیکرٹری سہیل ملک کو گرفتار کر لیا گیا۔

مشتعل کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا جبکہ جواب میں پولیس نے ان پر آنسو گیس کے شیل پھینکے۔

لاہور پولیس
پولیس نے لاہور میں امن و امان برقرار رکھنے کے اقدامات کر رکھے ہیں
پرانے لاہور کے علاقے لوہاری گیٹ سے بھی اسی طرع کی جھڑپوں اور پتھراؤ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق لیگی لیڈروں اور کارکنوں نے جلسہ گاہ نیلا گنبد اکٹھا ہونا تھا اور وہاں سے ایک جلوس کی شکل میں شہباز شریف کا استقبال کرنے کے لئے ایئرپورٹ روانہ ہونا تھا۔

مسلم لیگ کے مرکزی رہنما انعام اللہ خان نیازی اور احسن اقبال کو بھی نیلا گنبد سے گرفتار کیا گیا ہے جبکہ رکن اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم کو داتا دربار کے قریب حراست میں لیا گیا۔

نیلا گنبد سے سہ پہر پانچ بجے تک سو سے زائد لیگی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اس سے پہلے نواز لیگ کی مرکزی رہنما میمونہ ہاشمی کو ملتان سے لاہور پہنچنے پر ایئر پورٹ سے حراست میں لیا گیا۔

لاہور مسلم لیگ (نواز) کے صدر حاجی محمد حنیف اور شہر کے سابق ڈپٹی میئر مرغوب احمد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

شہر کے دیگر حصوں سے بھی کئی لیگی کارکنوں کی گرفتاری کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

لاہور میں دفعہ 144 نافذ جس کے تحت چار یا چار سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہے۔

تاہم پولیس نیلا گنبد پہنچنے والے لیگی کارکنوں کو گرفتار کر رہی ہے چاہے وہ دو دو کی ٹولیوں میں ہی وہاں پہنچیں۔

درایں اثناء شہباز شریف کے استقبال کے لئے اکٹھے ہونے والے تین ارکان قومی اسمبلی سمیت پیپلز پارٹی کے متعدد رہنماؤں کو لاہور میں پارٹی کے ایک مقامی رہنما کے گھر پر نظر بند کردیا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے تین ارکان قومی اسمبلی خورشید شاہ، ثمینہ گھرکی اور یاسمین رحمان اور پارٹی کے دوسرے مقامی رہنما اور اے آر ڈی کی دوسری جماعتوں کے رہنما آج شاہ جمال میں پیپلز پارٹی لاہور کے صدر میاں مصباح الرحمان کے گھر پر جمع ہوئے تھے۔

یہاں سے انھوں نے شہباز شریف کے استقبالیہ جلوس میں شامل ہونے کے لیے نیلا گنبد پر جانا تھا لیکن پولیس کی ایک بھاری نفری نے اس گھر کو گھیر لیا اور اس کے دروازے بند کردیے۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے ترجمان نوید چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ میاں مصباح کے گھر کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے اور ان لوگوں کے گھر سے باہر جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

پولیس نے پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے۔

میاں مصباح کے گھر کے باہر ہیلمٹ اور زرہ پہنے پولیس کے پچاس سے زیادہ جوان تعینات ہیں اور ایک ایس ایچ اور اور ایس پی پولیس ان کی قیادت کررہے ہیں۔

جو رہنما گھر میں نظربند ہیں ان میں ملک حاکمین، نوید چودھری، الطاف قریشی، عبدالقدیر خاموش، منیر حسین گیلانی وغیرہ شامل ہیں۔

لاہور کے ایک میکوڈ روڈ پر واقع ہوٹل سے بھی مسلم لیگ (ن) کے شہر سے باہر سے آۓ ہوۓ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

میاں شہباز شریف آج شام ساڑھے چھ بجے ایک کمرشل پرواز سے ابو ظہبی سے لاہور آرہے ہیں اور حکومت نے ان کے استقبال کے لیے ایئر پورٹ جانے والے سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کررکھی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد