پیر بنیامین کو قتل کر دیا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ(ن) پنجاب کے نائب صدر اور سابق صوبائی وزیر پیر بنیامن رضوی کو سنیچر کی سہ پہر ایک بجے کے قریب لاہور میں ان کے دو ساتھیوں سمیت قتل کردیا گیا۔ چھیالیس سالہ پیر بنیامن رضوی گارڈن ٹاؤن سے پنجاب یونیورسٹی کی طرف جا رہے تھے کہ ان پر موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی اور فرار ہوگئے۔ پیر بنیامن موقع پر ہی ہلاک ہوگئے اور ان کا ڈرائیور اور گن مین ، محمد نصیر اورحلیم خان بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ فاران بیگ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بظاہر دہشت گردی پر مبنی حملہ ہے اور اس واقعہ کی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔‘ پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے اہلکار اور ترجمان زعیم الحق قادری نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم اپنے رہنما کے ظالمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں البتہ ابھی یہ واضح نہیں کہ بنیامین کی ہلاکت کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔‘ زعیم الحق نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا کہ بنیامین پر فرقہ وارانہ بنیادوں پر حملہ کیا گیا ہے۔ پیر بنیامین رضوی ضلع گجرات کے قصبہ پھالیہ کے رہنے والے تھے جو منڈی بہاؤالدین سے متصل ہے۔ انہوں نے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا ہوا تھا۔ ان کے والد بھی رکن صوبائی اسمبلی رہے ہیں۔ پیر بنیامین نے حکمران جماعت مسلم لیگ(ق) میں شامل ہونے کے بعد دوبارہ نواز گروپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ مسلم لیگ(ن) نے اس واقعہ پر چار روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||