وانا میں چونتیس قبائلی گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکومت نے احمدزئی وزیر قبائل پر القاعدہ کے غیرملکی عناصر کے اندراج کے سلسلے میں تعاون نہ کرنے پر اقتصادی پابندیاں لگانا شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں سنیچر کو نو سرکردہ قبائلی سرداروں سمیت چونتیس افراد کو حراست میں لیے جانے کے علاوہ ان کی گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سید افتخار حسین کے دورۂ وانا کے ایک روز بعد ہی جنوبی وزیرستان میں حکام نے احمدزئی وزیر قبائل کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگانا شروع کر دی ہیں۔ گورنر سرحد نے قبائلیوں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران قبائلی لشکر کی القاعدہ کے چھپے ہوئے مشتبہ غیر ملکی ارکان کے خلاف کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مزید مہلت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ مقامی انتظامیہ نے سنیچر کو اسی سلسلے میں بات چیت کے لئے بلائے گئے نو سرکردہ قبائلی سرداروں کو جن میں ملک خانزادہ، ملک نور علی اور سرور خان شامل ہیں حراست میں لے لیا ہے۔ ان پر مقامی حکام عدم تعاون کا الزام لگا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان کے مقام جنڈولہ اور اس سے ملحق جنوبی شہر ٹانک سے بھی دو درجن سے زائد وزیر قبیلے کے افراد کو حراست میں لینے کے ساتھ ساتھ ان کی گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ ادھر وانا بازار میں دکانیں رکھنے والے قبیلوں کے افراد کو بھی دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اس علاقے میں جرائم پیشہ افراد اور غیر ملکیوں کے آزادانہ گھومنے پھرنے پر نظر نہیں رکھ سکتے تو حکومت یہ بازار بند کروا دے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مقامی رسم و رواج کے مطابق ہے اور حکومت اب بھی القاعدہ کے غیر ملکی ارکان کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہے۔ ان تازہ اقدامات کی وجہ سے علاقے میں ایک مرتبہ پھر غیریقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||