BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 May, 2004, 09:08 GMT 14:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومت نے شہباز کو ہیرو بنادیا‘

اخبارات
پاکستان کے قومی اخبارات کا کہنا ہے کہ حکومت نے شہباز شریف کو ملک بدر کرکے قانون اور آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور ملک میں مصالحت اور مفاہمت کا ایک موقع گنوا دیا ہے۔

ایک اخبار نے لکھا ہے کہ حکومت نے جو کچھ کیا ہے اس سے شہباز شریف ہیرو بن گئے ہیں۔

پاکستان کے تین بڑے قومی اخبارات نے گیارہ مئی کو لاہور میں شہباز شریف کی آمد اور ملک بدری کو اپنے اداریوں کا موضوع بنایا ہے اور سب نے ہی حکومت کی طرف سے گرفتاریوں اور لاہور میں ناکہ بندی پر تنقید کی ہے۔

دی نیشن نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ حکومت نے کس قانون کے تحت میاں شہباز شریف کو ان کے ملک آنے سے روکا ہے، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اگر شہباز شریف ملک واپس آنا چاہتے تھے تو حکومت ان کو دی گئی معافی واپس لے لیتی اور ان کے خلاف مقدمہ چلاتی۔

اخبار لکھتا ہے کہ جیت حکومت کی ہوئی یا شہباز شریف کی لیکن شکست قانون کی حکمرانی کی ہوئی ہے۔ فریقین میں کوئی بھی معاہدہ ہو سپریم کورٹ کے فیصلہ کی اس دلیری سے توہین نہیں کی جانی چاہیے تھی۔

اخبار نے مسلم لیگ کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور لاہور میں ناکہ بندیوں سے شہریوں کو ہونے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوۓ کہا ہے کہ حکومت نے ایک سیاسی معاملہ کو انتظامی طریقہ سے نپٹا کر غلطی کی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اگر شہباز شریف کو بظاہر غیرقانونی طور پر ملک بدر کرنا بھی تھا تو پورے شہر کی ناکہ بندی کرنی کی ضرورت نہیں تھی۔

انگریزی روزنامہ ڈیلی ٹائمز نے آج اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ جو چیز چائے کے کپ میں ایک طوفان کے برابر تھی اسے حکومت نے ٹی وی چینلز پر دباؤ ڈال کر تمام توقعات سے زیادہ بڑھا دیا۔

اخبار کےمطابق اے آر وائی کو شہباز شریف کا انٹرویو براڈ کاسٹ کرنے کی اجازت نہ دے کر حکومت نے چینل کو بلیک میل کیا اور سی این این کے لاہور کے دفتر کا گھیراؤ کرلیا تاکہ وہ شہباز شریف کا لاہور ائرپورٹ پر ایسا استقبال ہوتے نہ دکھا سکے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ کہنا کہ شہباز شریف جلاوطنی کے معاہدہ کے باعث ملک میں واپس نہیں آسکتے قانونی اور آئینی طور پر مضبوط موقف نہیں۔ اب حکومت نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ جب فیصلہ کن مرحلہ آتا ہے تو اسے قانون کی قطعاً پرواہ نہیں ہوتی۔

اخبار لکھتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ شہبازشریف کا سیاسی قد بہت چھوٹا تھا اور وہ اپنے مقبول ار طاقتور بھائی نوا شریف کے زیرسایہ پنجاب پر حکومت کرتے رہے اور خود کبھی پارٹی میں مقبول نہیں رہے کیونکہ وہ اسے نطرانداز کرتے تھے۔ لیکن حکومت نے ان کو ملک میں آنے سے روکنے کے لیے زور زبردستی کا مظاہرہ کرکے شہباز شریف کو توقع سے زیادہ کامیاب کر دکھایا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ جنرل مشرف نے شہباز شریف کو ان کے تصور سے بھی زیادہ بڑا ہیرو بنادیا ہے اور ان کی ملک بدری آنے والے وقت میں ان کے لیے ایک اثاثہ ثابت ہوگی۔

اردو روزنامہ نواۓ وقت نے گرفتاریوں، نطربندیوں اور آنسو گیس پھینکنے کے واقعات پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ایک ہی واقعہ میں حقیقی جمہوریت کا نقاب اتر گیا ہے اور عوام کو پتہ چل گیا ہے کہ یہ ماضی کی جنرل صاحب کے الفاظ میں مصنوعی جمہوریت کا نقش ثانی ہے مگر بہت ہی بھونڈا اور تلخ۔

اخبار نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کو ایک بہترین موقع ملا تھا کہ وہ شہباز شریف کی آمد کو ایک نۓ دور کا آغاز سمجھ کر ملک میں مصالحت اور مفاہمت کے سیاسی کلچر کو فروغ دے لیکن جمالی صاحب ، جنرل صاحب اور چودھری برادران اور ان کے مشیروں نے یہ موقع کھودیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد