اسلام آباد: کھجور میں اٹکا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوں تواسلام آباد پا کستان کا سب سے زیادہ سرسبز شہر ہے مگر بہار کے موسم میں اس کی خوبصورتی میں کئی گنا اضافہ ہو جا تا ہے جب انواع اقسام کے پھول اور پودے اپنے جو بن پر آ جاتے ہیں۔ مگر اس بار بہار اپنےساتھ اس شہر میں ایک نیا قسم کا ’شجر ممنوعہ‘ لائی ہے جس سے عام لوگ حیران اور صارفین کے حقوق کی تنظیمیں پریشان ہو گئی ہیں۔کجھور کے یہ درخت شہر کے مصروف شاہراہوں کے بیچوں بیچ گرین بیلٹ اور دیگر نمایاں مقامات پر لگائے گئے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ کسی کھجور کے درخت پر کوئی پھل ہے اور نہ ہی کوئی سبز پتہ یا کونپل، جبکہ شہری حلقوں کے لئے پریشانی کی بات ان مرجھائے ہوئے درختوں کے لگانے پر آنے والا خرچہ ہے۔ صارفین کے حقوق کی تنظیم کنزیومر رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں کھجور کے درختوں کی موجودگی کئی پریشان کن سوالات پیدا کرتی ہے۔ مختار احمد علی کے مطابق دوسری اہم بات یہ ہے کہ حکام نے سینکڑوں غیر موزوں درخت لگانےکا فیصلہ کسی عوامی مشاورت کے بغیر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے کے حکام کھلی کچہری یا پھر صارفین کی تنظیموں سے مشاورت کے ذریعے عوامی رائے حاصل کر سکتے تھے۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق کھجور کے درختوں پر ستائیس لاکھ روپے خرچہ آیا ہے اور یہ فی درخت نو ہزار نو سو روپے بنتاہے۔ سی ڈی اے کے شہری ماحول کے ڈائریکٹر افتخار احمد اعوان کہتے ہیں کہ درخت لگانے کے ٹھیکیدارکو ستائیس لاکھ میں سے بارہ لاکھ کی ادائیگی کر دی گئی ہے۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں کھجور کے درختوں کا منصوبہ جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ کے کچھ سیاستدانوں کا شاخسانہ ہے جنہوں نے اپنا اثررسوخ استعمال کرتے ہوئے ایسا ممکن بنایا۔ سی ڈی اے ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کھجور کے درخت اسلام آباد کی سڑکوں کو مزید خوبصورت بنانے کے لئے لگائے گے ہیں اور اس سلسلے کسی فرد کے فائدے کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ سی ڈی اے اسلام آباد میں کھجور کے لگائے گئے درختوں کی کل تعداد بتانے سے گریزاں ہے تاہم یہ معلوم ہوا ہے کہ فقط پارلیمنٹ ہاؤس سے فاطمہ جناح پارک تک جانے والی جناح ایونیو کی گرین بیلٹ پردو سو ساٹھ درخت لگائے گئے ہیں۔ شاہراہ دستور، شاہراہ کشمیر، سیکٹر جی ایٹ، جی نائن، جی ٹین،ایف نائن اوردیگر نمایاں علاقے شامل ہیں جہاں پر کھجوروں کے درخت لگائے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||