BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 November, 2003, 20:29 GMT 01:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مدرسوں کے بیمار بچے

مدرسوں میں بچوں کو بیماریاں آسانی سے لگ جاتی ہیں
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ستر ہزار مدرسے ہیں

دیکھنے میں تو عبدالصمد ایک تندرست بچہ ہے جو دن بھر مدرسے میں قرآن خوانی کرنے کے بعد شام کو اپنے ہم جماعتوں کے ہمراہ اسلام آباد کے ایک چھوٹے سے گراؤنڈ میں تفریح طبع کی غرض سے آتاہے۔ لیکن حقیقت میں یہ تیرہ سالہ معصوم بچہ مختلف قسم کے امراض جلد کا شکار ہے۔

یہ بات اس کو اس وقت پتہ چلی جب کئی ہفتوں کی ناقابل برداشت خارش کے بعد اس کا معائنہ ایک سرکاری ہسپتال میں کرایا گیا۔ یہی نہیں اس کے بظاہر تندرست ہم جماعت بھی جلد کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

اسلام آباد جیسے جدید شہر میں رہنے کے باوجود ان معصوم بچوں کو علاج معالجے کی مطلوبہ سہولیات میسر نہیں ہیں۔

دو سال پہلے وہ اپنےآبائی گاؤں روات سے قرآن حفظ کرنے کی خاطر اسلام آباد آیا تھا۔ اس کے بہت سے ساتھیوں کا تعلق بھی دیہی علاقوں سے ہے۔

حفظان صحت کے بنیادی اصولوں سے بے خبر بچے نہ صرف اپنے مدرسے کے منتظمیں بلکہ حکومت وقت کے لئے ایک سوالیہ نشان ہیں۔ صرف یہی نہیں ملک کےہزاروں مدارس میں صورتحال کچھ اسی طرح کی ہے۔

یہ بچے گروپوں کی صورت میں تنگ کمروں میں رہتے ہیں۔ محدود وسائل کی بناء پر غسل کرنے کے لئے مشترکہ غسل خانے استعمال کئے جاتے ہیں۔ درجنوں بچے ایک ہی تولیہ استعمال کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے کپڑے پہننے میں عار محسوس نہیں کرتے۔

طبی ماہرین کے نزدیک اتنی زیادہ تعداد میں لوگوں کی قربت جلد کے کئی قسم کے امراض کا موجب بنتی ہے۔

وزات داخلہ کےاعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں ستر ہزار مدرسے ہیں۔ جن میں تقریبا دس لاکھ کے قریب بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہیں۔ مختلف آزاد ذرائع اور غیرسرکاری تنظیمیں مدرسوں کی طالب علموں کی تعداد تیس لاکھ بتاتی ہیں۔ اگر ان اعدادوشمار پر بھروسہ کیا جائے تو ملک بھر میں لاکھوں بچوں کو جلد کے امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔

پاکستان انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) ہسپتال کے ماہر امراض جلد ڈاکٹر مقصود انور ہر مہینےسینکڑوں بچوں کا علاج کرتے ہیں۔ جو اسلام آباد اور گرد و نواح کے مدرسوں میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ نہ صرف ہسپتال میں مریضوں کا علاج معالجہ کرتے ہیں بلکہ اپنی بیوی کے (جو ڈاکٹرہیں) ہمراہ اکثر اوقات رضاکارانہ طور پر مخلتف مدارس کا دورہ کر کے انہیں طبی سہولیات مہیا کرتے ہیں۔

ڈاکٹر انور کا کہنا ہے کہ مدرسے کے بچوں میں خارش‘ پھوڑے پھنسیاں اور فنگل انفیکشن جیسی بیماریاں عام پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ جویں اور مختلف پیراسائٹس کی وجہ سے ہونے والی بیماری سکیبیس ہے جو ستر فیصد سے زیادہ مدرسے کے بچوں کو اپنا شکار بنا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد کی بیماریوں بشمول خارش اور سکیبیسں نہ صرف بچوں کے جسموں پر بھیانک نشانات چھوڑ جاتیں ہیں بلکہ ان کو کوڑھ مغز بھی بنا دیتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیمار بچوں کی علیحدگی نہایت ضروری ہے تاکہ تندرست بچوں کو بیماری سے محفوظ رکھا جاسکے۔

مدرسے کے بچے
مچوں میں جلد کی بیماری عام ہے

ڈاکٹر صاحب کے نزدیک بچوں پر سختی سے ممانعت ہونی چاہیےکہ وہ ایک دوسرے کاتولیہ یا کپڑوں کا تبادلہ نہ کریں۔ انہوں نے تمام مدرسوں کے منتظمیں پر زور دیا کہ وہ بچوں کو مناسب صحت کی سہولیات مہیا کریں اور صاف ستھرا ماحول فراہم کریں۔

اسلام آباد کے سب سے بڑے مدرسے جامعہ فریدیہ کےمنتظم غازی عبد الرشید نے اقرار کیا کہ ڈیڑھ سال پہلے امراض جلد کی وباء مدرسےمیں پھیل گئی تھی جس میں سینکڑوں بچے متاثر ہوئے۔

جامع فریدیہ میں اس وقت سترہ سو بچے زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا امراض جلد کی صورت میں متاثرہ بچے کو دوسرے بچوں سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے اور اسکو رخصت پر گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ غازی صاحب نے کہا کہ حکومت مدرسے کوکسی قسم کی امداد فراہم نہیں کرتی جس کی وجہ سے طالب علموں کو صحت کی مناسب سہولیات فراہم کرنا مشکل ہے۔

جب وزارت داخلہ کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس مسئلہ پر اپنانقطہ نظر بیان کرنے سے انکار کر دیا۔ ان افسران کی ہچکچاہٹ کی وجہ اس وقت سمجھ میں آئی جب وزارت کے ذرائع نے یہ انکشاف کیا کہ وزارت صرف سیکیورٹی کی حد تک ان مدارس کے ساتھ منسلک ہے۔

وزارت تعلیم کے پبلک ریلیشن آفسیر مبشر حسن نے کہا کہ حال ہی میں انکی وزارت نے مدرسہ اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن میں نہ صرف مدرسوں کے نصاب تعلیم میں جدید علوم شامل کرنے پر زور دیاگیا بلکہ صحت سے متعلق بھی کئی قابل ذکر تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

ایک تجویز کے تحت تربیت یافتہ ڈاکٹر بذات خود مدرسوں میں جاکر معیار صحت کی تصدیق کریں گے۔ حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے مدرسوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

مالی وسائل کی کمی کا شکار یہ مدرسے بذات خود کسی بھی قسم کی تبدیلی لانے سے قاصر ہیں۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کہا کہ تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ایک ایسا جامع نظام بنائے جس کے تحت مدرسوں کے بچوں کو نہ صرف صحت کی بہترین سہولیات مل سکیں بلکہ وہ موجودہ تیزرفتار دور میں وقت کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے قابل ہو جائیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد