BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 March, 2004, 15:26 GMT 20:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارلیمان یا بحث مباحثے کا کلب

پارلیمان
بی اے پاس ارکان بھی تبدیلی نہیں لا سکے
آئینی ترامیم پر اختلافات کے باعث ایک سال تک ہنگامہ آرائی کا شکار رہنے والی پاکستان کی پارلیمنٹ کی گاڑی اب چلتی ہوئی دکھائی تو دیتی ہے لیکن قانون سازی کا فقدان اور غیر معیاری بحث دیکھ کرخیال ہوتا ہے کہ گریجویٹ ارکان پر مشتمل یہ قومی اسمبلی ماضی کے تجربہ کار لیکن نسبتاً کم پڑھے لکھے اراکین کی اسمبلیوں سے بھی گئی گذری ہے۔

جس کی مثال ان دنوں صدر جنرل پرویز مشرف کے پارلیمینٹ سے کردہ سالانہ خطاب پر جاری بحث ہے جس میں اراکین کی تقاریر میں شعلہ بیانی تو ہے لیکن کوئی ٹھوس تجاویز اورسفارشات پیش نہیں کی جاتیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ صرف بحث برائے بحث ہو رہی ہے۔

گریجویٹ قومی اسمبلی میں ستّر کے لگ بھگ نئی خاتون ارکان ہوں یا پھِر نوجوان لیکن ابھی تک بول بالا تو پرانے ارکان کا ہی ہے چاہے وہ محمود خان اچکزئی ہوں، نوید قمرہوں، خواجہ آصف ہوں یا لیاقت بلوچ اور حافظ حسین احمد یا پھر شیخ رشید اور شیر افگن۔

صدارتی خطاب پر کئی روز سے قومی اسمبلی میں جاری بحث کے دوران حکومتی ارکان حسب معمول صدر کی تعریف کرتے نہیں تھکتے جبکہ حزب اختلاف والے بڑھ چڑھ کر تنقید کر رہے ہیں جیسا کہ انکو حکومت کا ہر کام برا ہی لگتا ہے ۔

ایک سال کی ہنگامہ آرائی، چپقلش، کوششوں اورانتظار کے بعد جمالی حکومت متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے نتیجے میں سترہویں آئینی ترمیم کا بل پارلیمان سے منظور کروا کے آئینی بحران سے تو نکل گئی لیکن اس کے نتیجے میں وہ ایک نئی مشکل میں پھنسی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے اندر اور انکی حلیف جماعتوں سےوزارتوں کے جھگڑے ہوں یا بعض وزراء کے قلمدانوں کی تبدیلی کے معاملات، ان سے بھی پارلیمان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ جیسا کہ گذشتہ کئی دنوں سے ایم کیو ایم کاپارلیمینٹ سے پر اسرار طور پر غائب رہنے کا معاملہ ہے۔

بظاہر تو ایم کیو ایم والے قومی اسمبلی سے اپنے غیر اعلانیہ بائیکاٹ کی وجہ اندرونی معاملات بتاتے ہیں لیکن انکے حلقوں میں اب یہ بات چھپی بھی نہیں رہی کہ انکے حکومت سے اختلافات کی اصل وجہ وفاقی کابینہ میں کم سے کم دو وزارتیں لینا اور قومی سلامتی کونسل کے قیام کیلئے کابینہ کے منظور کردہ بل کے متن میں تبدیلی کراناہے۔

جرنیلی فرمائش پر تمام مسلم لیگی دھڑوں کے ادغام کا معاملہ بھی ابھی چل ہی رہا ہے اور اس معاملے پر مختلف دھڑوں میں اختلاف رائے بھی کوئی چھپی ہوئی بات نہیں رہی۔ ساتھ میں ایم کیو ایم کے حکومت سے اختلافات کو سیاسی حلقے خاصی اہمیت دے رہے ہیں۔

عام تاثر یہی ہے کہ کابینہ میں توسیع میں تاخیراور حکومتی اعلان کے با وجود ابھی تک متنازعہ قومی سلامتی کا بِل پیش کرنے میں دیر کا سبب بھی حکومتی اتحادیوں کے درمیان پائےجانے والے غیر اعلانیہ اختلافات ہی ہیں۔

آج کل نہ تو حکومت کے پاس نئی قانون سازی کیلئے کوئی مواد ہے نہ ہی اسکے حامی اراکین کے پاس صدر مشرف کے دفاع کے علاوہ کہنے کو کوئی بات۔ حزب اختلاف کا حال بھی اس زیادہ مختلف نہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے عام انتخابات میں تو اکاسی نشستیں جیتی تھیں لیکن ’فوجی ضمیر‘ کی آوازپر لبیک کر کے حکومتی گاڑی میں انکے ارکان اسمبلی سوار ہوتے گئے اور انکی تعداد اب ساٹھ سے بھی کم رہ گئی ہے۔

تاہم بعض ارکان اس کی ایک وجہ پارٹی قیادت کا بحران بھی بتاتے ہیں۔ پارٹی کے ترجمان نےخفیہ ایجنسیوں پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ اب انہوں نے نیا طریقہ واردات ایجاد کیا ہے جس کے تحت پیپلز پارٹی کے پرانے اور قربانیاں دینے والے ارکان پر دباؤ بڑھانا شروع کیا ہے تاکہ انکو توڑا جا سکے۔

اس سے حکومت یہ تاثر قائم کرنا چاہتی ہے کہ پی پی قیادت اتنی بری ہے کہ اب وفادار لوگ بھی انہیں چھوڑ رہے ہیں تا کہ کارکن میں مزیدمایوسی پھیلے۔

چند دنوں کی ہی بات ہے کہ جب پی پی پی کے رحیم یار خان سے رکن اسمبلی ظفر اقبال وڑائچ نے پارٹی چھوڑ نے کا اعلان کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس کے دوران ہی استعفیٰ سپیکر کو تھمادیا تھا اور دوسرے روز لا ہور میں پریس کانفرنس کی جس میں آدھے درجن سے زائد ارکان پنجاب اسمبلی اور ناظمین نے بھی استعفے کا اعلان کیا۔

پی پی پی کی خود ساختہ جلاوطن رہنما بینظیر بھٹو کی جماعت کا مستقبل میں کیا ہوگا یہ تو آنے والے ایام میں ہی واضع ہو سکےگا۔

متحدہ مجلس عمل کو سترہویں ترمیم کے بعد سے ’دوستانہ حزب اختلاف‘ کے نام سے پکارا جانے لگا ہے۔

ایسی صورتحال میں سیاسی مبصرین بھی پارلیمان کومحض بھڑاس نکالنے کا فورم ہی قرار دیتے ہیں۔ البتہ حکومت اور حزب اختلاف کے بیشتر اراکین بظاہر اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ جب تمام اہم فیصلے ایوان صدر میں ہو رہے ہوں تو پارلیمان کی حیثیت بحث مباحثے کے کلب سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد