BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 January, 2004, 21:21 GMT 02:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر آج پارلیمان سے خطاب کریں گے

پارلیمنٹ ہاوس پر اینٹی ائیر کرافٹ توپیں بھی لگائی گئی ہیں
پارلیمنٹ ہاوس پر اینٹی ائیر کرافٹ توپیں بھی لگائی گئی ہیں

صدر جنرل پرویز مشرف کے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے لیے اسلام آباد اور پارلیمینٹ ہاؤس میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اور حکومتی عہدیدار اس اجلاس میں حزب مخالف کے احتجاج کو محدود کرنے کے لیے ان سے جماعتی اور انفرادی سطحوں پر رابطے کررہے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے صدر مشرف کا خطاب پچاس منٹ سے ایک گھنٹے کا ہوگا جس کے بارے میں جمعرات کو انھوں نے اپنے قریبی ساتھیوں سے مشورے کیے۔

کہا جارہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو حکومتی جماعت نے کہا ہے کہ اگر وہ سول لباس میں خطاب کریں گے تو اس سے اچھا تاثر پیدا ہوگا اس لیے امکان ہے جنرل پرویزمشرف جو پاکستان آرمی کے سربراہ بھی ہیں آج فوجی وردی کے بجاۓ شیروانی میں پارلیمینٹ سے خطاب کریں۔

صدر مشرف اسپیکر قومی اسمبلی امیر حسین اور چئیرمین سینیٹ میاں محمد سومرو کے ہمراہ ایوان میں آئیں گے۔ صدر اسپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے درمیان والی کرسی پر بیٹھیں گے۔

اس خصوصی اجلاس میں حزب مخالف کے ممکنہ احتجاج کو غیر منظم اور غیر مؤثر کرنے کے لیے حزب اقتدار اور حزب مخالف کے ارکان کو الگ الگ نشستیں نہیں دی جائیں گی جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے بلکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے چار سو اکتالیس ارکان کو حروف تہجی کے اعتبار سے نشستیں دی جائیں گی۔

اجلاس کے حوالے سے قومی اسمبلی کا ایجنڈا تیار کرلیا گیا ہے جس کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی صبح گیارہ بجے شروع ہونے والے پارلیمینٹ کے خصوصی مشترکہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔

تلاوت قران پاک کے بعد اسپیکر صدر مشرف کو خطاب کی دعوت دیں گے اور اجلاس میں اس خطاب کے علاوہ کوئی اور کارروائی نہیں ہوگی۔ کسی رکن پارلیمینٹ کو نکتہ اعتراض بھی اٹھانے کی اجازت نہیں دی جاۓ گی۔

صدر مشرف حکومت کی ایک سال کی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں اظہار خیال کریں گے۔ اس تقریر کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا جاۓ گا۔ اس خطاب کے دروران میں وزیراعظم ظفراللہ جمالی ایوان میں موجود رہیں گے۔

خطاب کے دروان میں چاروں صوبوں کے گورنر، وزراۓ اعلی، سفارتکار، اعلی سرکاری حکام، آزاد کشمیر کے وزیراعظم ، مسلح افواج کے سربراہان، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر بھی مہمانوں کی گیلریوں میں موجود ہوں گے۔

صدر کے خطاب کے موقع پر پارلیمینٹ ہاؤس میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گۓ ہیں۔ پارلیمینٹ ہاؤس ، ایوان صدر اور ریڈیو پاکستان پر اینٹی ائیر کرافٹ گنز نصب کردی گئی ہیں۔

پارلیمینٹ ہاؤس کی حفاظت کا انتظام فوج، فرنٹئیر کانسٹیبلری اور پولیس کے تحت ہوگا جبکہ چار سول اور فوجی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکار پارلیمینٹ ہاؤس کی عمارت کے اندر تعینات ہوں گے۔

سینیٹ کے تمام دفتری عملہ کو چھٹی دے دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی کے چند شعبوں کے علاوہ اکثر ملازممین کو چھٹی دے دی گئی ہے۔ جن ملازمین کو چھٹی نہیں دی گئی ہے انہیں پارلیمینٹ ہاؤس آنے کے لیے خصوصی اجازت نامے دیے گۓ ہیں۔

تمام وزراء اور ارکان قومی اسمبلی کو اپنا عملہ ساتھ لانے سے منع کردیا گیا ہے۔ حکومت کے مخصوص مہمانوں کے علاوہ مہمانوں کو کارروائی دیکھنے کے پاس جاری نہیں کیے گۓ۔ کوئی شخص خصوصی اجازت نامے کے بغیر پارلیمینٹ ہاؤس میں داخل نہیں ہوسکتا۔

جمعہ کے روز فوج اور انٹیلی جنس حکام نے پارلیمینٹ ہاؤس کا معائنہ کیا اور آلات اور کتوں کی مدد سے حفاظتی انتظامات جانچے۔

دوسری طرف حکومت نے جمعہ کے روز اے آر ڈی کے رہنماؤں سے صدر کے خطاب کے دروان میں ہنگامہ آرائی نہ کرنے پر ان سے بات چیت کے لیے رابطے جاری کیے جن میں اسے کوئی مثبت یقین دہانی نہیں مل سکی۔

اسپیکر قومی اسمبلی اور جنرل مشرف کے قریبی ساتھی چیف آف اسٹاف جنرل حامد جاوید کے درمیان بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ دوسری طرف وزیراعظم جمالی ، مسلم لیگ کے صدر شجاعت حسین اور اسپیکر قومی اسمبلی نے اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم، مسلم لیگ کے رہنما اسحاق ڈار اور پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن سے بات چیت کی۔

اے آر ڈی کی جماعتیں ہفتہ کی صبح اپنے پارلیمانی اجلاس میں صدر کے خطاب کے دوران میں اپنی حکمت عملی کا حتمی فیصلہ کریں گی۔

تاہم پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الہی چند روز سے حزب مخالف کے ارکان اسمبلی سے انفرادی رابطوں میں مصروف ہیں اور کوششیں کررہے ہیں کہ یہ ارکان صدر کے خطاب کے دوران میں حد سے تجاوز نہ کریں تو حکومت انہیں ان کے انتخاباتی حلقوں میں انفرادی سطح پر مراعات دے سکتی ہے۔

حزب مخالف کے سخت احتجاج کے امکان پر وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے آج سینیٹ کے اجلاس کے بعد کہا کہ حزب مخالف کو غیر ذمہ دارانہ رویہ نہیں اپنانا چاہیے تاہم اگر انہوں نے احتجاج کیا تو حکومت اسے خندہ پیشانی سے برداشت کرے گی۔

انیس سو ستانوے کی پارلیمینٹ سے صدر فاروق لغاری کے خطاب کے دوران میں شیخ رشید مسلم لیگ(ن) کے ان ارکان میں شامل تھے جنھوں نے اس دوران میں سخت ہنگامہ آرائی کی تھی۔

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں انیس سو نوے سے لےکر انیس سو ستاوے تک تمام صدور کے خطاب کے دروان میں حزب مخالف زبردست ہنگامہ آرائی کرتی آئی ہے۔

صدر غلام اسحاق خان کے خلاف پیپلز پارٹی کا شور شرابہ جس میں گو بابا گو کا نعرہ مشہور ہوا اور صدر فاروق لغاری کے زمانے میں مسلم لیگ(ن) کی ہنگامہ آرائی جس میں حزب مخالف کے ارکان زخمی ہوۓ اس احتجاج کی روایت کا حصہ ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ صدر مشرف کے خطاب کے دروان میں ایسا شدید ہنگامہ ہوتا ہے یا حزب مخالف کچھ دیر شور مچانے کے بعد ایوان سے واک آٰٹ کرکے صدر مشرف کو کچھ رعایت دیتی ہے جیسے اس نے پہلے بھی اہم موقعوں پر ایسا کیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد