| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات میں چار پولیس اہلکار ہلاک
صوبہ پنجاب کے شہر گجرات میں دریائے چناب کے کنارے واقع قصبے جلالپور جٹاں کے ایک ویران علاقے میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے چار پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے اور ان کی رائفلیں چھین کر فرار ہوگئے ہیں۔ تھانہ صدر جلالپور جٹاں کے ایس ایچ او ناصر محمود نے بتایا کہ چاروں پولیس اہلکار باوردی تھے اور دو موٹر سائیکلوں پر تھانہ سے پندرہ کلومیٹر دور ایک شخص چودھری وقار کے ڈیرے پر تفتیش کے سلسلہ میں گئے تھے ۔ تھانہ کے محرر نے بتایا کہ تین دسمبر کو اسی علاقہ میں رہزنی کی ایک واردات ہوئی تھی اور سیالکوٹ کے تین شکاریوں سے انکی رائفلیں چھین لی گئی تھیں۔ ان شکاریوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ مذکورہ بالا ڈیرے سے آنے والے افراد نے ان سے رائفلیں چھینی تھیں۔
ہلاک ہونے والے چاروں پولیس اہلکار اتوار کو اسی واقعہ کی تفتیش کے سلسلے میں دریا کے اس پار گئے تھے ۔ انہیں ایک کشتی میں موٹر سائیکل رکھ کر دریا عبور کرنا پڑا تھا اور جب وہ ویران علاقے میں قائم اس ڈیرے کے قریب پہنچے تو انہیں فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا ۔ محرر کا کہنا تھا کہ ان پر متعدد برسٹ چلاۓ گئے تھے اور ان کی نعشوں کی حالت سے معلوم ہوتا تھا کہ ایک ایک کو کم از کم تیس گولیاں لگی ہوں گی۔ اس حملے میں موٹر سائیکلیں بھی تباہ ہوگئیں ۔ پولیس اہلکاروں کی نعشیں کئی گھنٹے تک جائے وقوعہ پر پڑی رہی تھیں۔ محرر نے بتایا کہ یہ ایک ویران علاقہ تھا اور پولیس اہلکار صبح دس بجے تھانہ سے روانہ ہوۓ اور سہ پہر تین بجے ان کی موت کی اطلاع ملی جس کے بعد انکی نعشیں وہاں سے اٹھانے کے کام کا آغاز ہو سکا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں تھانہ صدر جلالپور جٹاں کا سب انسپکٹر محمد الیاس، کانسٹیبل محمد فاروق، جاوید اقبال اور طارق محمود شامل ہیں۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ڈی آئی جی گوجرانوالہ کی سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔ تاہم تاحال کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔ گجرات اور اس سے ملحقہ بعض علاقے ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتوں کی وجہ سے بدنام ہیں اور یہاں پر ایسے گاؤں بھی ہیں جہاں پر ڈاکو ہونا کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||