| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں پولیس پر حملوں میں اضافہ
بلوچستان میں راکٹ فائرنگ، بم دھماکوں اور پولیس پر حملوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بم دھماکے اور پولیس پر حملے علیحدہ علیحدہ نوعیت کی وارداتیں ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ پیر اور منگل کی درمیانی شب وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے آبائی شہر جعفر آباد کے علاقے روجھان جمالی میں پولیس مرکز کے قریب زبردست دھماکہ ہوا ہے ۔ اس دھماکے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم علاقے میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ دو ہفتے قبل بھی روجھان جمالی میں ایک سکول کی عمارت میں دھماکہ ہوا تھا۔ اسی طرح کوئٹہ میں بھی گزشتہ دنوں مختلف مقامات پر دھماکے ہوئے ہیں لیکن ان دھماکوں میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان شعیب سڈل سے جب معلوم کیا گیا کہ آخر کون لوگ ہیں جو بم دھماکوں اور پولیس پر حملوں میں ملوث ہو سکتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ یہ دونوں الگ نو عیت کی وارداتیں ہیں۔ بم دھماکے اور راکٹوں کی فائرنگ ایسے گروہ کی کارروائی ہو سکتی ہے جن کے کچھ سیاسی مقاصد ہوں اور ان مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہو۔ انہوں نے کہا ہے کہ نامعلوم افراد کی جانب سے ٹیلیفون بھی موصول ہوتے ہیں جو ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں لیکن یہ افراد کبھی سامنے نہیں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کوئی دو سال قبل کوئٹہ کے چھاؤنی کے علاقے میں راکٹ فائرنگ معمول تھا لیکن بہتر اقدامات کی وجہ سے ان پر قابو پا لیا گیا تھا۔ بلوچستان بھر میں پولیس پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے خصوصًا جعفر آباد کے علاقے میں جہاں گزشتہ دو ہفتوں میں لگ بھگ چار پولیس اہلکار اور ان میں سے ایک سات سالہ بچہ ہلاک ہوئے ہیں۔ اسی طرح اس علاقے میں کوئی ایک درجن سے زائد راکٹ فائر کئے گئے ہیں جس سے علاقے میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے ۔ مقامی صحافی عزیز بلوچ نے بتایا ہے کہ پولیسں نے تاحال کسی کو نامزد نہیں کیا ہے لیکن لگ بھگ تیس افراد کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ آئی جی پولیس نے کہا ہے کہ پولیس پر حملے سندھ بلوچستان اور پنجاب کے سرحدی علاقے میں روپوش ملزمان کا کام ہے جن کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ اس سال جون میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سبی رینج عبدالعزیز بلو کو قتل کردیا گیا تھا اور پولیس نے علاقے میں ایک بڑا آپریشن شروع کردیا تھا۔ صوبہ بلوچستان سندھ اور پنجاب کا سرحدی علاقہ پٹ فیڈر کہلاتا ہے اور اس میں آر ڈی دو سو اڑتیس نمایاں ہے۔ جہاں پولیس کے مطابق جرائم پیشہ افراد روپوش ہیں یہ میدانی علاقہ ہے جہاں مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں۔ یہ علاقہ جعفر آباد کا مشرقی حصہ ہے اور اس علاقے میں فرنٹیئر کور کی چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور بڑی تعداد میں نفری بھی تعینات ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||