BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 November, 2003, 22:43 GMT 03:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس اور مجاہد

کارگل پلٹ مجاہد محی الدین
محی الدین نے اعلان کیا تھا کہ اگر سترہ رمضان تک مفرورگرفتار نہ ہوئے وہ پھلوہ تھانے کو آگ لگا دیں گے۔

مانسہرہ کی وادیوں میں ایک عورت کے رشتے سے شروع ہونے والا تنازعہ دس سال تک خون خرابے کا باعث رہنے کے بعد اب پر امن طریقے سے حل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر کسی معاملے پر اختلاف باقی ہے تو وہ یہ کہ اس حل کی ذمہ دار پولیس ہے یا ایک ’مجاہد‘ جو مبینہ طور پر کارگل کی لڑائی میں شریک رہ چکا ہے۔

ہزارہ ڈویژن کا علاقہ تناول عرصہ دس سال سے تشدد آمیز جرائم کی زد میں تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ سکندر اور تاج محمد نامی دو مقامی باشندوں نے ایک عورت کے رشتے سے شروع ہونے والے تنازعے کو باقاعدہ گینگ وار کی شکل دے دی اور یوں ’ کندا گروپ‘ اور ’ٹیڈا گروپ‘ وجود میں آئے۔

ان گروپوں کے خلاف درج ہونے والے قتل اور ڈ کیتیوں کے مقدمات کی تعداد بیسیوں میں ہے۔ لیکن وہ رہزنی کی وارداتیں اور دوسرے جرائم جن میں ان گروہوں کو ملوث سمجھا جاتا ہے ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

ہزارہ ڈویژن کا تناول علاقہ
تناول کچھ عرصہ پہلے تک ایک ’نوگو ایریا‘ کی شکل اختیار کر گیا تھا

ان گروہوں کے خلاف گواہی تو دور کی بات لوگ خوف کے مارے ان کے متعلق زبان تک کھولنے سے بھی ڈرتے تھے جس کی وجہ سے تناول عملاً ’نوگو ایریا‘ بن گیا۔ پولیس کا کام صرف یہ رہ گیا کہ وہ تناول آنے جانے والے لوگوں کو ممکنہ خطرے سے متنبہ کرے۔

پھر ان گروپوں کی دہشت سے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے انہیں ’سفید پوش‘ سرپرست مل گئے۔

کئی بار پولیس نے کوشش کی اور مقابلے بھی ہوئے لیکن قانون شکنوں کا نیٹ ورک ہمیشہ قانون کے محافظوں سے زیادہ فعال ثابت ہوا اور وہ لوگ ہر بار بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

 دونوں گروپوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے پیشکش کی کہ میں اپنا علاقہ مخصوص کرلوں تو وہ میرے علاقے میں کوئی واردات نہیں کریں گے

’مجاہد‘ محی الدین

ایسے میں ان گروہوں اور کسی حد تک پولیس کے بھی خلاف آواز بلند کرنے والا شخص تھا محی الدین جسے کارگل میں لڑائی کے حوالے سے مجاہد کہا جاتا ہے۔ اس نے اعلان کیا کہ اگر انتظامیہ سترہ رمضان تک ان مفروروں کو گرفتار نہیں کرتی تو وہ اور اس کے ساتھی ’پھلوہ تھانے کو آگ لگا دیں گے اور خود مفروروں کے خلاف لڑیں گے۔‘ اس لڑائی کو انہوں نے جہاد کشمیر سے بڑا جہاد قرار دیا۔

محی الدین کا تعلق ناڑا ڈوگہ نامی گاؤں سے ہے جو مانسہرہ سے تقریباً پینتالیس کلومیٹر دور دشوار گزار علاقے میں ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’ہم کارگل سے لوٹے تو ہر وقت منصوبہ بندی کرتے کہ کس طرح علاقے کو ان دہشت گردوں سے پاک کریں۔ خفیہ طور پر ممبر سازی کرتے رہےاور لوگوں کو ذہنی طور پر تیار کرتے رہے۔

’ابھی ہم پوری طرح تیار نہیں تھے کہ مفروروں نے ایک سکول کی بس کو روکا اور اس میں بیٹھے معصوم بچوں سے ان کا جیب خرچ بھی نکال لیا۔ اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اسلئے ہم ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے بعد دونوں گروپوں نے ان سے رابطہ کیا اور پیشکش کی کہ ’میں اپنا علاقہ مخصوص کرلوں تو وہ میرے علاقے میں کوئی واردات نہیں کریں گے‘۔ ان کے انکار پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں، لیکن ’انہیں کیا پتہ کہ میں موت کی تلاش میں کارگل تک گیا اب اگر موت گھر میں مل جائے تو کیا کہنے۔‘

مجاہد سیاستدان کی ضرورت ہے

 اب تو ہم یہ انتظار کر رہے ہیں کہ کب کشمیر میں جہاد ختم ہو اور کب یہ مجاہد گھر لوٹیں۔ ہمیں تو مجاہد پٹواری، مجاہد تھانیدار، مجاہد سیاستدان اور مجاہد صدر چاہیئے

ادھر پولیس نے بھی ملزمان کے خلاف ایک گرینڈ آپریشن کی تیاریاں شروع کر دیں جس کا، ایک بڑے افسر کے مطابق، مجاہد کی دھمکی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن پھر وہ سفید پوش عمائدین جو دس سال تک ان مفروروں کے خلاف حکومت میں ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ کر سکے تھے، اب متحرک ہو گئے اور دونوں مفرور گروہوں کو قائل کر لیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر گرفتاری دے دیں۔

انہوں نے مفروروں کو کیا یقین دہانیاں کرائیں یہ ابھی واضح نہیں ہوا، لیکن اب تک تقریباَ تیس مفرور گرفتاریاں دے چکے ہیں جن میں اسکندر بھی شامل ہے۔ پینتیس کے قریب ملزم اب بھی مفرور ہیں تاہم اب یہ علاقہ چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے ہیں۔

ایس ایس پی مانسہرہ احسان طفیل اس صورتحال کا سارا کریڈٹ پولیس کو دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بڑا آپریشن کرنے کے لئے پولیس کی تیاری پہلے سے مکمل تھی۔ مفروروں پر سخت دباؤ تھا اور اسی لئے وہ لوگ گرفتاری دینے پر راضی ہوئے۔

تاہم مقامی لوگوں کی رائے عموماً یہی ہے کہ مفرور گروہوں کی جزوی گرفتاری کا ذمہ دار ’مجاہد‘ ہی ہے۔

تناول کے ایک رہائشی کا کہنا ہے: ’ہم لوگ پوری ایک دہائی سے اس خوف و ہراس کی فضا میں جی رہے تھے۔ ہماری جان، مال اور عزت کچھ بھی محفوظ نہ تھا۔ اس وقت پولیس تھی اور نہ عمائدین۔ اب تو ہم یہ انتظار کر رہے ہیں کہ کب کشمیر میں جہاد ختم ہو اور کب یہ مجاہد گھر لوٹیں۔ ہمیں تو مجاہد پٹواری، مجاہد تھانیدار، مجاہد سیاستدان اور مجاہد صدر چاہیئے۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد