| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
رشوت کا پولیس مقابلہ
قضیہ کی اصل ذمہ دار تو شاید اقوام متحدہ ہے۔ ہوا یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کی پولیس میں رشوت ستانی عام ہے اور یہ بدعنوانی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب سماجی اور اقتصادی بہبود کے بھی آڑے آرہی ہے۔ بس صاحب پھر کیا تھا۔۔۔ صبح سے۔۔۔ جب سے یہ رپورٹ شائع ہوئی ہے تب سے ہی۔۔۔ بش ہاؤس (بی بی سی ورلڈ سروس کا لندن میں واقع دفتر) میں موجود پاکستانی، بھارتی اور بنگلہ دیشی باشندے یا پھر وہ جنہیں مختلف مغربی ذرائع ابلاغ سے اس رپورٹ کی اشاعت کے بارے میں خبریں موصول ہوئی ہیں، وہ سب ہی لوگ، اس بحث میں لگے ہیں کہ جناب اقوام متحدہ نے اس رپورٹ کی اشاعت میں ہمارے (ان کے خیال میں ان سب ہی کے) ساتھ زیادتی کی ہے۔ سب کا مؤقف ہے کہ جی اصل میں پولیس ہمارے ملک کی زیادہ بدعنوان ہے اور نام لیا گیا ہے صرف بنگلہ دیش کا۔۔۔ تو ’یہ زیادتی ہے۔‘ مجھے یہ کام سونپا گیا کہ تینوں ممالک میں ’پولیس کے تعاون‘ سے ہونے والے مختلف ’جرائم‘ میں ’پولیس کا زر تعاون‘ معلوم کیا جائے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ اصل میں سب سے کم بے ایمان اور سب سے کم بدعنوان پولیس ہے کس ملک کی؟ تو صاحب بس ہم نے بڑی مشکل سے تینوں ممالک میں ’پولیس کے تعاون‘ سے ہونے والے ایسے مختلف ’جرائم‘ طے کئے جو تینوں ممالک میں ہوسکتے تھے اور پھر ان کے لیے ’پولیس کا زر تعاون‘ معلوم کرنے کی کوشش کی۔ نتیجہ اس ساری مشق کا یہ ہوا کہ اگر آپ کراچی میں بغیر لائسینس کے گاڑی چلاتے ہوئے پکڑ لئے جائیں تو آپ کو اپنی جان چھڑانے اور اس عذاب سے بچ نکلنے کے لئے پولیس اہلکار کو ’زرتعاون‘ کے طور پر بیس سے پچاس روپے تک دینے ہوں گے۔ ممبئی میں اسی ’غلطی‘ ’جرم‘ یا ’لاپرواہی‘ جو نام بھی آپ دینا چاہیں، کا زر تعاون بیس سے سو روپے تک ہوگا۔
ہاں ڈھاکہ میں صورتحال ذرا مختلف ملی۔ ڈھاکہ میں آپ کی جان ’کتنے‘ میں چھوٹے گی یہ منحصر ہے اس بات پر کہ آپ کو ’پکڑا‘ ’کس‘ نے ہے۔ اگر آپ ایک معمولی سپاہی کے ہاتھوں ’گرفتار‘ ہوئے ہیں تو شاید معاملہ پچاس ٹکے میں نمٹ جائے، لیکن اگر آپ کو سارجنٹ ’صاحب‘ نے بنفس نفیس ’روکا‘ ہے تو پھر ظاہر ہے کہ وہ اپنی ’حیثیت‘ کے مطابق ہی تعاون کے طلبگار ہوں گے جو ڈھاکہ کے صحافیوں کے خیال میں تین سو ٹکے بھی ہوسکتا ہے۔ پھر بات آتی ہے ذرا تھوڑے ’خطرناک قسم‘ کے معاملات کی۔ گانجا، چرس، یا دلپشاوری کا ایسا ہی اور کچھ سامان نکل آئے آپ کی جیب سے سڑک پر پولیس کے ہاتھوں، تو کراچی میں ’موقع‘ پر ہی جان چھوٹ جائے تو بہتر ہے کیونکہ ’موقع‘ پر آپ کو ممکن ہے کہ دس بیس روپے، بہت سے بہت سو روپے میں ’آزادی‘ حاصل ہوجائے مگر جو آپ تھانے چلے گئے تو ذرا صورتحال مختلف ہوجائے گی۔ وہاں (تھانے میں) معاملہ ’رفع دفع‘ ہوگا تقریباً پانچ سو روپے میں۔ ممبئی میں پولیس ان معاملات میں ذرا قانون پسند واقع ہوئی ہے۔ کسی نے بتایا ’ارے صاحب۔۔۔ مشکل ہے کہ اس معاملے میں ایک مرتبہ دھر لینے کے بعد پولیس آپ کی جان چھوڑے۔ یہ معاملات ذرا سنجیدگی سے لیے جاتے ہیں وہاں۔ لیکن اگر چھوڑنا ہی پڑ جائے تو پھر پولیس پانچ سو روپے بھی طلب کرسکتی ہے اور اس بات پر بھی منحصر ہوسکتا ہے کہ آپ کن ’حالات‘ میں دھر لیے گئے ہیں۔ ویسے صاحب مشکل ہی ہے۔۔۔‘ رہ گیا ڈھاکہ تو وہاں پولیس آپ کو اس معاملے میں کچھ کہتی ہی نہیں۔ وہ آپ کو ویسے ہی ’زمانے کا ستایا ہوا‘ سمجھ کر الٹا آپ کی جانب سے آنکھ بھی بند کرلیتی ہے اور ہمدردی بھی محسوس کرتی ہے آپ کے بارے میں۔ (دیکھیئے اقوام متحدہ کی ستم ظریفی۔۔۔ایسی ہمدرد پولیس کو بدعنوان کہہ ڈالا۔)
ایک اور مسئلہ جس پر تینوں ممالک سے ’پولیس کا زر تعاون‘ جاننے کی کوشش کی گئی وہ یہ تھا کہ اگر کوئی نوجوان جوڑا کہیں سیر و تفریح کررہا ہے اور پولیس نے روک لیا ہے تو کیا ہوگا۔ کراچی میں تو حال ہی میں پولیس کے صوبائی سربراہ سید کمال شاہ کو اس انتہائی اہم مسئلے میں مداخلت کرنی پڑی۔ (ذرا سوچئے۔۔معاملہ کس قدر سنگین تھا کہ آئی جی پولیس کو دخل دینا پڑا اور انہوں نے باقاعدہ ایک فرمان جاری کیا کہ پولیس نوجوان جوڑوں کو تنگ نہ کرے۔) مگر پھر بھی جناب قانون تو نافذ کرنا پڑتا ہی ہے ناں۔۔۔ اب دفتر میں بیٹھے پولیس کے صوبائی سربراہ کو کیا پتہ کہ سڑک پر قانون کو کن پریشانیوں سے دوچار رہنا پڑتا ہے۔ تو اگر آپ کراچی میں ’دھر‘ لئے گئے ہیں تو سب سے پہلے تو پولیس آپ کو سنگینی کا احساس یہ کہہ کر دلاتی ہے ’ٹھیک ہے جی۔۔۔چلیں تھانے چلیں۔۔۔وہاں آپ لوگوں کے والدین کو بلاتے ہیں وہ ہی اگر ’صاحب‘ کو ’مطمئن‘ کرسکیں تو ٹھیک ہے۔ مگر بالآخر قانون پسند شہری کو پولیس سے تعاون کرنا ہی پڑتا ہے اور یہ تعاون ہوتا ہے تقریباً سو سے پانچ سو روپے تک۔ ممبئی میں اسی تعاون کی شرح سو روپے، دو سو، تین سو، جتنا پولیس کا بس چل سکے۔ ڈھاکہ میں یہ معاملہ سو سے پانچ سو ٹکے تک میں ’حل‘ ہوجاتا ہے۔ رہی بات غریب عوام سے متعلق ’قانون‘ کی تو اگر آپ کراچی میں سڑک پر تجاوز کرکے ٹھیلہ لگا رہے ہیں تو یہ منحصر ہے کہ آپ کہاں ٹھیلہ لگا رہے ہیں۔ اگر وہ کوئی اچھا بازار ہے اور رمضان کا ’بابرکت مہینہ‘ بھی تو بس ڈیڑھ سو روپے ہفتہ، ورنہ وہی پرانی شرح یعنی پچاس روپے ہفتہ۔ ممبئی میں پولیس غریب عوام کے ساتھ مل کر محض پچاس ہی روپے میں قانون نافذ کردیتی ہے۔
رہا ڈھاکہ تو کہنے والے کہتے ہیں کہ ’بھائی ڈھاکہ کی پولیس تو خواہ مخواہ ہی بدنام ہے۔ وہ، یہ ٹھیلے ویلے والوں کو تو کچھ کہتی ہی نہیں۔۔۔یہ تو یار غریب لوگ ہیں۔ انہیں پولیس ایسے ہی ایک آدھ تھپّڑ مار کے چھوڑ دیتی ہے۔ اب کیا پولیس ان کو بھی ستائے۔ یا ان غریبوں سے بھی پیسے لینے کی کوشش میں وہ وقت ضائع کرے جو اگر صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو کسی جگہ سے اتنے ہی وقت میں زیادہ آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔ بھلا دیکھیئے صاحب۔۔۔اسی پولیس کو جو غریب پرور ہے۔۔۔اور پھر قانون نافذ کرنے میں اتنی سخت بھی کہ ’مجرم‘ کو تھپّڑ تک ماردیتی ہے اس کو بدعنوان کہتی ہے اقوام متحدہ۔۔۔کوئی بات ہوئی صاحب۔۔۔‘ ان صاحب کی طرح یہی بات تو ہم بھی کہتے ہیں کہ سارے قضیے کی ذمہ دار تو اقوام متحدہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||