BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 November, 2003, 12:33 GMT 17:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان پر سہ فریقی بے اعتمادی

افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر افغان اور امریکی حکام کے ان بیانات کی تردید کی ہے جن میں اس سے مبینہ طالبان سرگرمیاں روکنے کے لئے مزید اقدامات کا تقاضا کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے ان بیانات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں بہت کچھ پہلے ہی کر رہا ہے۔’ہمارا خفیہ معلومات کا نظام کافی موثر ہے۔ سرحد پر بڑی تعداد میں فوج تعینات ہے اور کسی اچانک کاروائی کے لئے تیز تر فورس بھی موجود ہے۔ اسی وجہ سے طالبان انہیں دشمن مانتے ہیں۔ پاکستان ان کے لئے پناہ گاہ نہیں بن سکتا۔‘

پاکستانی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان بیانات کا مقصد کوئی قربانی کا بکرا تلاش کرنا ہے جس پر افغانستان کے اندرونی حالات کی ذمہ داری ڈالی جا سکے۔ ان کا افغان اور امریکی حکام کو مشورہ تھا کہ وہ بیانات دیتے وقت اپنے الفاظ پر توجہ ضرور دیا کریں۔

زلمے خلیل زاد

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکہ طالبان پر قابو پانے کے لئے پاکستان کی طرف سے مزید تعاون چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ طالبان عناصر سرحد پار سے افغانستان پرحملے کرتے ہیں اور وہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں موجود ہیں جہاں سے وہ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں اس تازہ بیان بازی کا بظاہر مقصد پاکستان پر مزید دباؤ بڑھانا ہے کہ وہ اقدامات اٹھائے لیکن ساتھ میں طالبان کو روکنے میں اپنی ناکامی کو چھپانا بھی ہے۔ طالبان کی ملک کے مشرقی اور جنوبی صوبوں میں بڑھتی ہوئی کاروائیاں اس کے لئے ندامت کا باعث تو ہے کہ امریکی فوجی اور تکنیکی وسائل کی دستیابی کے باوجود انہیں روکنے میں موثر کردار ادا نہیں کرسکتے ہیں۔

اُدھر مغربی ذرائع ابلاغ وقتاً فوقتاً پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے کردار کے بارے میں شکوق و شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ آئی ایس آئی پر طالبان تحریک کو منظم کرنے کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔ اب کچھ مغربی اہلکار اور اخبارات اس بارے میں سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ خفیہ ادارہ کتنا تعاون کر رہا ہے۔

فی الحال اس سہ فریقی بے اعتمادی کا کوئی آسان اور جلد حل نظر نہیں آرہا ہے۔ بہتری کے آثار کم ہیں۔ طالبان کاروائیاں جاری ہیں اور ان میں آنے والی تیزی نے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کو بھی اپنی سرگرمیاں معطل کرنے پر مجبور کیا ہے۔ سیکورٹی کے حالات بدستور مخدوش ہیں اور اس میں بہتری آنے تک افغانستان میں ترقی اور خوشحالی کا خواب محض خواب ہی رہنے کا خطرہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد