| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کے خلاف آپریشن پر آپریشن
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مشتبہ طالبان اور القاعدہ کے اراکین کے خلاف تازہ فوجی کاروائی مکمل طور پر غیر متوقع نہیں ہے۔ اس کے لئے پاکستان کی سیکورٹی ادارے کئی ہفتوں سے تیاریاں کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں بظاہر ایک کوشش گزشتہ ماہ صوبہ سرحد کے جنوبی شہر بنوں میں اچانک بڑی تعداد میں پاکستانی فوج کی تعیناتی بھی تھی۔ لیکن خراب موسم اور مقامی مزاحمت کی وجہ سے اُس کاروائی کو ختم کرنا پڑا تھا۔ پاکستانی فوج وہاں سے واپس ہوئی ہی تھی کہ تین راکٹ بنوں ہوائی اڈے پر داغے گئے جن سے کوئی نقصان تو نہیں ہوا البتہ اس کارروائی کے خلاف جذبات کا اظہار ضرور ہوتا تھا۔ گزشتہ کئی روز سے فوجیوں کی شمالی وزیرستان کی جانب تقل و حرکت اس جانب اشارہ کر رہی تھی کہ کسی نئی کارروائی کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں علاقے میں فوجی ہیلی کاپٹر بھی غیر معمولی پروازوں میں مصروف رہے۔ وفاق کے زیر انتظام نیم خود مختار قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں عینی شاہدین نے جمعرات کی صبح چھ بجے سے علاقے میں ایک درجن سے زائد پاکستان فوج کے ہیلی کاپٹروں کو افغان سرحد کی جانب پرواز کرتے ہوئے دیکھا۔ شمالی وزیرستان سے افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا کی سرحد ملتی ہے جوکہ طالبان کے حملوں کی وجہ سے امریکیوں کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج یہ کارروائی سرحدی مقام انگور اڈہ سے کوئی دس بارہ کلومیٹر مشرق میں بغر نامی علاقے میں کر رہی ہے جہاں ماضی میں مجاہدین کے کیمپ ہوا کرتے تھے۔ انگور اڈہ کا سرحدی مقام ایجنسی صدر مقام وانا سے تقریبا پینسٹھ کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ حالیہ دنوں میں طالبان نے مشرقی صوبے پکتیکا کے برمل ضلع کے علاوہ زابل کے کئی اضلاع پر قبضہ کرنے کے دعوے کئے تھے۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں ان کے حملوں میں بھی شدت آئی تھی۔ گزشتہ دنوں اسی علاقے میں ایک امریکی فوجی ہلاک بھی ہوا تھا۔ بظاہر یہ بڑھتی ہوئی طالبان کارروائیوں کو دبانے کی ایک کوشش کا حصہ ہے۔ طالبان اس پشتون علاقے میں دوبارہ منظم ہو رہے تھے اور اپنی حالیہ کارروائیوں میں ’کامیابیوں‘ سے وہ زیادہ متحرک اور پر اعتماد بھی نظر آنے لگے تھے۔ وزیرستان کے علاقے میں پاک-افغان سرحد کی دونوں جانب جنگجو وزیر اور محسود قبائل رہتے ہیں۔ اس علاقے میں طالبان کے لئے کافی حمایت پائی جاتی ہے اور افغان حکام اسی بنیاد پر اسے طالبان کی بڑی پناہ گاہ قرار دیتے تھے۔ افغان وزیر داخلہ علی احمد جلالی نے تو گزشتہ دنوں وزیرستان میں طالبان کے چھپے ہونے کا دعوٰہ کیا تھا۔ افغان حکومت اس علاقے میں بار بار پاکستان سے ان افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ یہ علاقہ جنگی اعتبار سے انتہائی دشوار گزار ہے۔ اونچا خشک پہاڑی علاقہ ہونے کے ساتھ ساتھ کھلے میدان بھی ہیں۔ کچے راستوں کی وجہ سے سفر بھی آسان نہیں۔ اس علاقے میں لڑائی کافی جان لیوا ہوسکتی ہے۔ اس قبائلی علاقے میں طالبان حکومت کے خاتمے کے فورا بعد سب سے پہلے پاکستان نے فوج تعینات کی تھی تاکہ القاعدہ اور طالبان ان علاقوں کا رخ نہ کر سکیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ سرحد کی دوسری جانب امریکی بھی اس کارروائی میں شامل ہیں یا نہیں۔ اس سرحدی علاقے میں ماضی میں پاکستانی اور امریکی فوجیوں کے درمیان ’غلط فہمی‘ کی وجہ سے جھڑپ بھی ہوچکی ہے جس میں دو پاکستانی ہلاک ہوئے تھے۔ اب تازہ کارروائی کی تفصیلات اس کے خاتمے کے بعد ہی سامنے آسکیں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||