پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق بل سینیٹ میں پیش

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے پانامالیکس کی تحقیقات سے متعلق بل ایوان بالا یعنی سینیٹ میں جمع کروایا ہے۔
اس بل کے مسودے میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا جائے جو پامانا لیکس کی تحقیقات کرے۔
پاکستان کے خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن سے تعاون کرنے کے پابند ہوں گے اس کے علاوہ کمیشن کو ضابطہ فوجداری اور ضابطہ دیوانی کے بھی اختیارات ہوں گے اور کمیشن پانامالیکس کی تحقیقات کے لیے کسی کو بھی طلب کرسکتا ہے۔
حزب مخالف کی جماعتیں اس بل کو صوبائی اسمبلیوں میں بھی پیش کریں گی۔
سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ بل کے اس مسودے میں کسی کے ساتھ کوئی امتیاز روا نہیں رکھا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس بل کو قانون کا درجہ دینے کے لیے حکومت کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔
سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف کا کہنا تھا کہ اس بل کو قانون کا درجہ دینے کے بعد اس سرمائے سے متعلق تحقیقات ہوسکیں گی جو بیرون ملک بھجوایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ پاناما لیکس میں جن 630 افراد کے نام آئے ہیں ان کے خلاف بلا امتیاز تحقیقات ہونا چاہییں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور حزب مخالف کی دیگر جماعتوں نے پانامالیکس کی تحقیقات کے لیے اس بل کی حمایت کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے جبکہ حزب مخالف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کو اس بل کی حمایت کرنے سے متعلق کوئی یقین دہانی نہیں کروائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف پاکستان کے خلاف تقریر کرنے پر اُن کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے قرارداد جمع کروائی ہے۔
پانامالیکس سے متعلق قائم کی گئی 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی میں ضوابط کار طے کرنے سے متعلق اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے جس کے بعد حزب مخالف کی جماعتیں وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق الیکشن کمیشن گئی ہیں جس پر الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم اور و زیر خزانہ سمیت پانچ افراد سے چھ ستمبر کو جواب طلب کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے وزیر اعظم کی نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں جس پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے یہ اعتراض لگا کر مسترد کردیں کہ وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق درخواستیں دائر کرنے کے لیے سپریم کورٹ متعقلہ فورم نہیں ہے۔







