’پاناما لیکس پر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے‘

خورشید شاہ کے مطابق ضوابط کار کے معاملے پر حزب مخالف کی جماعتیں متفق ہیں (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنخورشید شاہ کے مطابق ضوابط کار کے معاملے پر حزب مخالف کی جماعتیں متفق ہیں (فائل فوٹو)
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانامالیکس پر ضوابط کار طے کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کرے۔

دوسری جانب حکومت نے پانامالیکس سمیت دیگر اہم امور پر حزب مخالف کی جماعتوں کے ساتھ بات چیت میں تعطل کو ختم کرنے اور مذاکرات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیر کے روز حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پانامالیکس کے ضوابط کار طے کرنے کے معاملے پر حزب مخالف کی جماعتیں متفق ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ چونکہ اب وزیر اعظم وطن واپس آگئے ہیں اس لیے اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضوابط کار طے کرے۔

حکومت کے خلاف تحریک چلانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اس بارے میں فیصلہ پارلیمنمٹ میں موجود حزب مخالف کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

لندن سے واپسی پر وزیر اعظم نے اپنے وزرا سے مشاورت کی ہے

،تصویر کا ذریعہPML N

،تصویر کا کیپشنلندن سے واپسی پر وزیر اعظم نے اپنے وزرا سے مشاورت کی ہے

الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی سے متعلق قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اُن سے رابطہ کیا تھا لیکن ابھی تک اُنھوں نے حکومت کی طرف سے الیکشن کمیشن کے مجوزہ ارکان کے نام نہیں دیے۔

اُنھوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتیں ایسا الیکشن کمیشن چاہتی ہیں جو ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد کروائے۔

دوسری جانب حکومت نے پانامالیکس اور دیگر ملکی امور پر اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

اس بات کا فیصلہ لاہور میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا جس میں وفاقی وزرا اسحاق ڈاراور پرویز رشید کے علاوہ پارٹی کے دیگر رہنماوں نے شرکت کی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق وطن واپسی کے بعد حزب مخالف کی جماعتوں سے رابطے کریں گے اور پانامالیکس کے ضوابط کار طے کرنے سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کرنے پر بات کی جائے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اگر حزب مخالف کی جماعتیں مذاکرات کی میز پر نہ آئیں تو پھر حکومت ضوابط کار سے متعلق حزب مخالف اور حکومت کے مجوزہ ضوابط کار کو عام کردے گی اور پھر عوام ہی اس بارے میں فیصلہ کریں گے کہ کون مذاکرات سے بھاگ رہا ہے۔

واضح رہے کہ پانامالیکس سے متعلق ضوابط کار طے کرنے سے متعلق حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور اب تک پارلیمانی کمیٹی کے سات اجلاس ہوچکے ہیں لیکن یہ اجلاس بےنتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔