پاناما لیکس: ضابطہ کار بنانے کا معاملہ ٹھپ

پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد شریف خاندان کی طرف سے متضاد بیانات دیئے گئے اور اسی بنا پر اپوزیشن کی طرف سے ان کے احتساب کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد شریف خاندان کی طرف سے متضاد بیانات دیئے گئے اور اسی بنا پر اپوزیشن کی طرف سے ان کے احتساب کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا

پاناما پیپرز میں کرپشن کے انکشافات کی تحقیقات کے لیے ضوابط کار طے کرنے کے لیے بنائی گئی پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی میں شامل حزب مخالف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت اس میں مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے علاوہ ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کی ہلاکت جیسےمعاملات کو بھی شامل کرنا چاہتی ہے جو کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

پیر کے روز سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے حزب مخالف کی دیگر جماعتوں کے رہنماوں کے ساتھ مل کر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کو شامل کرنے کا مقصد ایشو سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ضوابط کار طے کرنے ولی پارلیمانی کمیٹی میں حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان کا موقف تھا کہ صرف پاناما لیکس میں جن افراد کے نام آئے ہیں اُن کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے لیکن اس کا آغاز وزیر اعظم اور اُن کے خاندان سے ہوگا۔

چوہدری اعتراز احسن کا کہنا تھا کہ حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے درمیان ضوابط کار طے کرنے کے لیے ڈیڈ لاک موجود ہے اور جب تک حکومت کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں آتا اس وقت تک کمیٹی کا اجلاس بلانا بےسود ہوگا۔

واضح رہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے آٹھ اجلاس ہوچکے ہیں اور ابھی تک کمیٹی پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے متفقہ ضوابط کار طے کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اگر ضوابط کار طے نہ ہوئے تو پھر حزب مخالف کی جماعتیں احتجاج کریں گی تاہم اس کا فیصلہ سیاسی جماعتوں کے قائدین ہی کریں گے۔

اس پریس کانفرنس میں حزب مخالف کی پانچ جماعتیں شریک تھیں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف قابل ذکر ہیں۔ حزب مخالف کی جن جماعتوں نے اس پریس کانفرنس میں شرکت نہیں کی ان میں عوامی نینشل پارٹی کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ اور قومی وطن پارٹی شامل ہیں۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پاناما لیکس کے معاملے پر ضوابط کار طے کرنے کو تیار ہیں لیکن اس میں حزب مخالف کی دھونس نہیں چلنے دی جائے گی۔

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے وفاقی وزرا زید حامد اور انوشہ رحمان کے ہمراہ پارلیمٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ حکومت دباو میں آکر کوئی بھی کالے قوانین نہیں بنائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاناما لیکس کی آڑ میں حزب مخالف حکومت کا میڈیا ٹرایل کر رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت سنہ 1956 انکوائری ایکٹ میں ترمیم کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس معاملے میں حزب مخالف کو بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ حزب مخالف کی کچھ جماعتوں کا ایجنڈہ غیر جمہوری روایات کو فروغ دینا ہے جس میں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔