کراچی کے میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب آج

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سمیت صوبہ سندھ کے مختلف شہروں آج میئر اور نائب میئر کے علاوہ ڈی ایم سیز اور ضلع کونسل کے چیئرمین اور نائب چیئرمین کے انتخابات منعقد ہو رہے ہیں ۔
کراچی میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں ایم کیو ایم نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے جب کہ دوسرے مقام کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز میں جوڑ توڑ جاری ہے۔
سیاسی جماعتوں نے صوبائی اسمبلی اور مرکز کی سیاست، پالیسی اور نظریات سے بالاتر ہو کر یہاں اتحاد کیے ہیں۔
کراچی کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ نواز تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔ مسلم لیگ نواز نے یہاں انتخاب ایم کیو ایم مخالف جماعتوں کے ساتھ مل کر لڑا لیکن چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخابات کے لیے اس نے ایم کیو ایم کے ساتھ بھی اتحاد کر رکھا ہے۔
کراچی میونسپل کارپوریشن کی 208 نشستوں میں سے 136 نشستوں پر کامیابی کے بعد ایم کیو ایم بغیر کسی اتحاد کے میئر اور نائب میئر لانے کی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ یہاں پاکستان پیپلز پارٹی کو دوسری اور مسلم لیگ نواز کو تیسری پوزیشن حاصل ہے۔

سنہ 1979 سے 2008 تک کراچی کے چار میئر رہ چکے ہیں جن میں سے عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان کا تعلق جماعت اسلامی جب کہ ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرح وسطی، کورنگی اور شرقی کی ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن میں بھی ایم کیو ایم کو اکثریت حاصل ہے۔ یہ تینوں اضلاع ترتیب وار لیاقت آباد، گلبرگ، ناظم آباد، نارتھ ناظم آْباد، نیو کراچی، فیروز آباد، جمشید کوارٹر، گلشن اقبال، شاہ فیصل کالونی، ماڈل کالونی، کورنگی اور لانڈھی پر مشتمل ہیں۔
ایم کیو ایم کا مقابلہ ضلع غربی اور جنوبی میں ہے جہاں وہ چھ جماعتی اتحاد کا سامنا کر رہی ہے۔
اس اتحاد میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام ف، جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی شامل تھیں لیکن موجودہ وقت یہ اتحاد اختلافات کا شکار ہے۔
اس صورت حال میں ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق پُرامید ہیں کہ دونوں ڈی ایم سیز سے ایم کیو ایم کے ہی چیئرمین کامیاب ہوں گے۔
غربی ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن

،تصویر کا ذریعہGetty
ضلع غربی اورنگی، مومن آباد، سائیٹ ایریا، بلدیہ اور منگھو پیر کے علاقوں پر مشتمل ہے۔
یہ کارپوریشن 46 یونین کمیٹیوں پر مشتمل ہے، یہاں ایم کیو ایم نے 22 نشتیں حاصل کی ہیں جب کہ مسلم لیگ نواز نے نو اور تحریک انصاف نے پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔
پیپلز پارٹی کو چار نشستوں پر کامیابی ملی لیکن ایک آزاد ممبر کی شمولیت کے بعد اس کے پاس بھی پانچ نشستیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام کے پاس دو، دو اور جماعت اسلامی کے پاس ایک نشست موجود ہے۔
کل جماعتی اتحاد نے چیئرمین کا عہدہ مسلم لیگ نواز کو دینے کا اصولی فیصلہ کیا تھا جب کہ نائب چیئرمین پر اختلافات موجود ہیں جس کی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف دونوں ہی دعویدار ہیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق کا کہنا ہے کہ انھوں نے مسلم لیگ نواز سے اتحاد کر لیا ہے اور ان کے امیدوار کی کامیابی یقینی ہے تاہم مسلم لیگ نواز کے سینیٹر نہال ہاشمی کا دعویٰ ہے کہ وہ کل جماعتی اتحاد پرقائم ہیں۔
ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن جنوبی
ضلع جنوبی کیماڑی، لیاری، آرام باغ، صدر، سول لائینز اور گارڈن کے علاقوں پر مشتمل ہے۔
یہ میونسپل کاپوریشن 31 یونین کمیٹیوں پر مشتمل ہے، جس میں سے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے 12، 12 نشستیں حاصل کر لی ہیں۔
کل جماعتی اتحاد نے چیئرمین کے لیے پیپلز پارٹی کے ملک فیاض اور وائس چیئرمین کے لیے تحریک انصاف کے منصور شیخ کو نامزد کیا ہے۔
یہاں کنگ میکر پوزیشن مسلم لیگ کی ہے، جس کے پاس چار نشستیں ہیں، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے لیے مسلم لیگ نواز اور یم کیو ایم کے درمیان معاہدہ بھی طے پاچکا ہے جس کی تصدیق ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق نے بھی کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایم کیو ایم اور وائس چیئرمین مسلم لیگ نواز سے ہوگا۔
ملیر ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن

،تصویر کا ذریعہAFP
ضلع ملیر بن قاسم، ابراہیم حیدری، گڈاپ، ایئر پورٹ اور کینٹومنٹ ایریا پر پھیلا ہوا ہے۔
ڈی ایم سی ملیر کی 31 نشستوں میں سے پیپلز پارٹی نے پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جب کہ اسے عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کی بھی حمایت حاصل ہے جن کے پاس ایک ایک نشست موجود ہے۔
اس ضلعے میں ایم کیو ایم مقابلے سے باہر ہے اس کے پاس صرف ایک نشست ہے۔ موجودہ وقت پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کے پاس 13 ووٹ جب کہ مسلم لیگ نواز اور اس کے اتحادیوں کے پاس سات اراکین کی حمایت موجود ہے۔
مسلم لیگ نواز کے سینیٹر نہال ہاشمی کا کہنا ہے کہ ملیر میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز دونوں کی ہی مضبوط پوزیشن تھی اور پیپلز پارٹی کی جانب سے پہلے اس ضلع سے اتحاد کی بات بھی کی گئی تھی لیکن اچانک معلوم نہیں کیا ہوا انھوں نے اتحاد کی بجائے مسلم لیگ نواز کے امیدوار وحید الدین کو دھونس و دھاندلی کے ذریعے دستبردار کرا کے اپنے امیدوار جان محمد بلوچ کو بلا مقابلہ منتخب کروا دیا۔
کراچی ضلعی کونسل
پاکستان پیپلز پارٹی حکومت نے ضلعی کونسل کو بحال کیا ہے، شہر کے دیہی علاقوں پر مشتمل اس ضلع کونسل کو سنہ 2001 میں جنرل مشرف کے دور حکومت میں ختم کر کے اس کو شہری حکومت کے کنٹرول میں دے دیا گیا تھا۔
ضلعی کونسل 56 نشستوں پر مشتمل ہے، جس میں پیپلز پارٹی کو اتحادیوں سمیت 35 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
یہاں دوسری نمبر پر مقامی اتحاد نے کامیابی حاصل کی تھی جس نے بعد میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی، جس کے پاس اب 20 نشستیں موجود ہیں۔







