کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے دوران روایتی جوش و خروش کی کمی دیکھنے کو ملی۔
،تصویر کا کیپشنووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد سکیورٹی اداروں کی نگرانی میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے
،تصویر کا کیپشنکراچی میں ہونے والے مقامی انتخابات میں خواتین نے بھی بڑی تعداد میں اپنے ووٹ کے جمہوری حق کا استعمال کیا
،تصویر کا کیپشنکراچی میں سنیچر کو بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں جہاں 70 لاکھ سے زائد ووٹر رجسٹرڈ ہیں جن کے لیے 4141 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنکراچی میں پولنگ کے موقعے پر رواتی جوش و خروش نظر نہیں آیا
،تصویر کا کیپشنپہلے تین گھنٹوں کے دوران ووٹ ڈالنے والوں کی انتہای کم تعداد پولنگ سٹیشنز پر نظر آئی جبکہ کئی میں انتخابای عملہ بھی نہیں پہنچا
،تصویر کا کیپشنشہر کے چھ اضلاع شرقی، جنوبی، غربی، وسطی، کورنگی اور ملیر پر مشتمل ہے، جس میں 247 یونین کونسل ہیں جہاں سے 5401 امیدوار میدان میں ہیں
،تصویر کا کیپشنڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران دیگر صوبوں کے علاوہ وفاقی اداروں سے تعینات کیے گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنسکیورٹی کے لیے فوج کی 20 کمپنیاں بھی طلب کی گئی ہیں۔ رینجرز اور فوج کے افسران کو فرسٹ کلاس میجسٹریٹ کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے
،تصویر کا کیپشنسیاسی کارکنوں میں بھی جوش کی کمی نظر آئی۔ دو پولنگ اسٹیشنوں پر صرف پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم حقیقی کے ایجنٹ موجود تھے جبکہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ایجنٹ اور کیمپ کا نام و نشان نہ تھا۔رتن تلاؤ کی پولنگ اسٹیشن پر صرف تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے ایجنٹ موجود تھے جبکہ دیگر کسی جماعت کا ایجنٹ نظر نہیں آیا
،تصویر کا کیپشنووٹرز نے عملے کے غیر تربیت یافتہ ہونے کی بھی شکایت کی اور بتایا کہ ان کہ اصرار پر انگوٹھے پر سیاہی لگائی گئی، جبکہ بیلٹ پیپر کا معیار بہتر نہ ہونے کی وجہ سے پشت پر لگی ہوئی سیاہی اوپر بھی نظر آرہی تھی جس پر بعض ایجنٹوں نے اعتراض بھی کیے