افغان پناہ گزینوں کے سکول بند ہونے کا خطرہ

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
حکومت پاکستان کی طرف سے افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کارڈ میں توسیع کی نئی پالیسی کے تحت جہاں عام افغان باشندوں کو مشکلات کا سامنا ہے وہاں تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں افغان بچے اور افغان تعلیمی ادارے بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔
افغان پرائیوٹ سکولز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت پاکستان بھر میں قائم افغان پناہ گزینوں کے 260 کے قریب تعلیمی ادارے بند ہو رہے ہیں اور جس میں زیر تعلیم تقریباً 60 ہزار طلبہ کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہونے کا امکان ہے۔
افغان پرائیوٹ سکولز ایسوسی ایشن کے ایک رہنما اور افغان سکول مولانا جامعی لیسہ کے سربراہ نقیب اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھر میں افغان پناہ گزینوں کے کل 260 تعلیمی ادارے قائم ہیں جن میں بیشتر یعنی 150 سکول خیبر پختونخوا میں واقع ہیں اور ان میں 60 تعلیمی ادارے پشاور اور آس پاس کے علاقوں میں واقع افغان پناہ گزین کیمپوں میں قائم ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ستمبر کے مہینے سے ان کا نیا تعلیمی سال شروع ہورہا ہے لیکن اب تک ان کے پاس ایک بھی نیا طالب علم داخلے کےلیے نہیں آیا ہے۔

’ان تمام سکولوں میں60 ہزار کے لک بھگ طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ موجودہ حالات سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ ان طلبہ کا مستقبل خطرے میں ہے۔ اگر یہ سارے طلبہ افغانستان واپس بھی چلے جاتے ہیں پھر بھی ان کا ایک سال تو ضائع ہوگا۔‘
نقیب اللہ کے مطابق زیادہ تر سکولوں کے مالکان اپنے تعلیمی ادارے بند کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں کیونکہ جب طلبہ ہی نہیں ہونگے تو سکول کیسے چلے گا۔
انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں افغان سفارت خانے اور پاکستانی حکام سے کئی مرتبہ ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں لیکن کسی کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔
’افغان حکام نے ہمیں ایک یہ تجویز دی کہ دس پندرہ سکولوں کو اکھٹا کر کے ایک سکول میں تبدیل کر دیا جائے لیکن ایسا کرنا ناممکن ہے کیونکہ دور دراز کے کیمپوں میں رہنے والے طلبہ شہر نہیں آسکتے۔ وہ ایک دن نہیں آئیں گے دوسرے دن نہیں آئیں گے اور اس طرح وہ سکول ہی چھوڑ دیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ایک سوال کے جواب میں نقیب اللہ نے کہا کہ یہاں رہنے والے افغان پناہ گزین کو اب یقین ہوگیا ہے کہ پاکستان میں وہ مزید قیام نہیں کر سکتے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں اس وقت 30 لاکھ کے قریب افغان پناہ گزین ملک کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ ہے۔







