چمن: ’بابِ دوستی‘ تیسرے روز بھی بند

،تصویر کا ذریعہepa
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں افغانستان سے متصل پاک افغان ’بابِ دوستی‘ سنیچر کو تیسرے روز بھی بند رہا۔
باب دوستی بند ہونے کی وجہ سے سرحدی علاقے سے دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے لوگوں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کوئٹہ میں پاکستان کی سرحدی سکیورٹی سے متعلق ذرائع نے چمن میں ’باب دوستی‘ کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسے 18 اگست کو بند کیا گیا تھا۔
ان ذرائع نے باب دوستی کو بند کرنے کا ذمہ دار افغان سکیورٹی حکام کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بلوچستان کے بارے میں قابل اعتراض ریمارکس کے خلاف دیگر علاقوں کی طرح سرحدی شہر چمن بھی عوام نے احتجاجی ریلی نکالی اور سرحد کے قریب پاکستانی حدود میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ان ذرائع نے الزام عائد کیا کہ اس پر افغانستان کے سکیورٹی حکام نے افغان سرحدی علاقے اسپین بولدک کے لوگوں کو کسی جواز کے بغیر اشتعال دلایا جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں نے نہ صرف پاکستان کی جانب پتھراؤ کیا بلکہ قابل اعتراض جملوں کے اظہار کے علاوہ پاکستانی پرچم بھی نذر آتش کیا۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اسپین بولدک میں اشتعال انگیزی کے باعث حفاظتی انتظامات کے تحت چمن میں باب دوستی کو بند کیا گیا۔
ان ذرائع کے مطابق سنیچر کے روز باب دوستی کو کھولنے کے لیے دونوں ممالک کے سرحدی فورسز کے حکام کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
چمن میں سرحد پر قائم باب دوستی پاکستان اور افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار کے درمیان نہ صرف آمدو رفت کا اہم ذریعہ ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان یہاں سے تجارت بھی ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد یہاں سے گزرتی ہے جبکہ افغانستان کے جنوب مغربی علاقوں میں نیٹو افواج کے لیے سامان بھی ادھر ہی سے گزرتا ہے۔
انجمن تاجران چمن کے صدر محمد صادق اچکزئی نے چمن سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ باب دوستی کی بندش سے عام لوگوں کے علاوہ تاجروں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
محمد صادق اچکزئی کا کہنا تھا کہ باب دوستی کی بندش کے باعث دونوں طرف سینکڑوں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں جس کے باعث پھل اور سبزیاں خراب ہورہی ہیں۔







