پاکستان نے طورخم سرحد کھول دی

فائرنگ شروع ہونے کے بعد دونوں طرف فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفائرنگ شروع ہونے کے بعد دونوں طرف فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا تھا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد پانچ دن سے بند طورخم سرحد سنیچر کی صبح کھول دی گئی ہے۔

طورخم میں مامور پولیٹکل انتظامیہ خیبرایجنسی کے تحصیل دار غنچہ گل نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب پاکستان اور افغانستان کے سرحدی اہلکاروں کے مابین ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے جس کے بعد سرحد کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔

* <link type="page"><caption> ڈیورنڈ لائن سے بارڈر مینیجمنٹ تک</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/06/160614_pak_afghan_border_tension_hk" platform="highweb"/></link>

* <link type="page"><caption> باڑ لگانے کا تنازع، طورخم سرحد آج بھی بند</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160511_torkham_border_closure_zis" platform="highweb"/></link>

* <link type="page"><caption> طورخم پر کشیدگی کی تصاویر</caption><url href=" Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2016/06/160615_afghan_pak_tension_pg_fz" platform="highweb"/></link>

پاک افغان سرحدی مقام طورخم پر گذشتہ کچھ عرصہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور طور خم سرحد پر افغان سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پاکستان فوج کے میجر ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستانی حکام کی جانب سے طورخم کے مقام پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے سرحد پار آنے جانے والوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

پولیٹکل انتظامیہ خیبرایجنسی کے اہلکار کا کہنا تھا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے حکام کے مابین مذاکرات بڑے اچھے اور دوستانہ ماحول میں ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مزاکرات اس جگہ ہوئے جہاں دونوں ممالک کے سرحدی گیٹ لگے ہوئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں پولیٹکل تحصیدار نے کہا کہ پاکستان کے علاقے میں واقع سرحدی گیٹ کی تعمیر کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ مذاکرات میں گیٹ کے سلسلے میں کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ ان کے مطابق سرحدی گیٹ کی تعمیر کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا۔

غنچہ گل کے مطابق گذشتہ دو دنوں سے افغان حکام کی جانب سے مسلسل پاکستان سے درخواست کی جا رہی تھی کہ لوگوں کی مشکلات کی خاطر سرحد کھول دیا جائے۔

تاہم انھیں بتایا دیا گیا تھا کہ جب تک اعلیٰ حکام کی جانب سے اجازت نہیں دی ملتی سرحد نہیں کھولی جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکرات میں میجر توقیر، کیپٹن وہاب جب کہ افغانستان کی جانب سے کرنل نثار نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ پانچ دن قبل افغانستان کی جانب سے سرحدی گیٹ پر تعینات پاکستان سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد دونوں طرف فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس میں ایک میجر سمیت دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

مرنے والوں میں ایک اہلکار کا تعلق افغانستان سے تھا۔ فائرنگ کے بعد سرحد پر حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے جس سے دونوں جانب آمد و رفت معطل ہوگئی تھی۔