کوئٹہ دھماکہ: ’ہمارے خون کی کوئی اہمیت نہیں‘

بائیکاٹ کی وجہ سے ضلع کچہری کوئٹہ میں ہو کا عالم تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبائیکاٹ کی وجہ سے ضلع کچہری کوئٹہ میں ہو کا عالم تھا
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کو ئٹہ میں پیر کے روز سول ہسپتال میں ہونے والے بم دھماکے میں کوئٹہ شہر میں پریکٹس کرنے والے وکلا میں سے 50 سے زائد ہلاک ہوئے جبکہ سو سے زائد زخمی ہیں۔

بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سیکریٹری عطااللہ لانگو نے بتایا کہ کوئٹہ شہر کے پریکٹس کرنے والے وکلا کی تعداد ساڑھے چار سو کے قریب ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سول ہسپتال میں ہونے والے دھماکے میں ان میں سے پچاس سے زائد ہلاک ہوئے جبکہ سو سے زائد زخمی ہیں۔

عطااللہ لانگو زخمی ہونے والے وکیلوں کے علاج معالجے کے سلسلے میں کراچی میں ہیں۔

بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی ٹارگٹ کلنگ اوراس کے بعد سول ہسپتال کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاکتوں کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں وکلا نے دوسرے روز بھی عدالتوں کی کاروائی کا بائیکاٹ جاری رکھا۔

بائیکاٹ کی وجہ سے ضلع کچہری کوئٹہ میں ہو کا عالم تھا۔

’ ہلاک ہونے والے وکلا میرے بچوں کی طرح تھے‘
،تصویر کا کیپشن’ ہلاک ہونے والے وکلا میرے بچوں کی طرح تھے‘

تصویریں لینے کے لیے موبائل فون نکالنے پر کچہری کے صحن میں موجود چار پانچ لوگوں میں سے ایک وکیل نے پوچھا کہ قبرستان کی کیا تصویریں بنا رہے ہو۔

اتنی بڑی تعداد میں وکلا کی ہلاکت اور زخمی ہونے پر ہائیکورٹ اور ضلع کچہری میں موجود وکلا تیسرے روز بھی ایک دوسرے کے ساتھ بغلگیر ہوکر آنسو بہاتے رہے۔

ضلع کچہری میں موجود سینیئر وکیل حسین آغا نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے وکلا ان کے بچوں کی طرح تھے وہ جس کا بھی پوچھتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں نہیں رہے ۔

اس موقع پر ایک اور وکیل ارباب نعیم کاسی ایڈوکیٹ نے بتایا کہ ہمارے خون کی کوئی اہمیت نہیں۔

 وکلا تیسرے روز بھی ایک دوسرے کے ساتھ بغلگیر ہوکر آنسو بہاتے رہے
،تصویر کا کیپشن وکلا تیسرے روز بھی ایک دوسرے کے ساتھ بغلگیر ہوکر آنسو بہاتے رہے

حسین آغا نے سیکورٹی کے حوالے سے کئی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’جب میں گھر سے نکلتا ہوں تو جگہ جگہ پر میری تلاشی لی جاتی ہے۔ سول ہسپتال میں میری گاڑی کو دیکھا جاتا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص بم لے کر وہاں کیسے پہنچا۔‘

کوئٹہ شہر میں وکلا کی ہلاکتوں کے حوالے سے یہ دوسرا بڑا واقعہ تھا۔

اس سے قبل سنہ2007 میں ضلع کچہری کوئٹہ میں ایک کمرہ عدالت میں ہونے والے خود کش حملے میں وکلا سمیت متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔