’دس سالوں کے دوران 43 صحافی اور کیمرہ مین ہلاک ہوئے‘

محمود خان کو ان کی محنت کے نتیجے میں سکیورٹی گارڈ سے کمیرہ مین بنا دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

،تصویر کا کیپشنمحمود خان کو ان کی محنت کے نتیجے میں سکیورٹی گارڈ سے کمیرہ مین بنا دیا گیا تھا
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے میں دو مزید کیمرہ مینوں کی ہلاکت کے بعد گذشتہ دس سال کے دوران ہلاک ہونے والے صحافیوں اور کمیرہ مینوں کی تعداد 43 ہوگئی ہے۔

پیر کی صبح کوئٹہ شہر کے سول ہسپتال کے شعبۂ حادثات کے داخلی دروازے کے باہر ہونے والے دھماکے میں نجی ٹیو چینلوں کے دو کمیرہ مین بھی ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والے کیمرہ مینوں میں شہزاد یحیٰ اور محمود خان شامل ہیں۔

٭ <link type="page"><caption> کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دھماکہ، ’69 افراد ہلاک‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160808_quetta_hospital_blast_sh" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> ’بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹیں گے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160808_pm_nawaz_army_chief_quetta_zz" platform="highweb"/></link>

نجی ٹی وی چینل آج سے منسلک شہزاد یحیٰ کا شمار کوئٹہ شہر کے انتہائی متحرک کیمرہ مینوں میں ہوتا تھا۔

شہزاد یحیٰ شادی شدہ تھے اور ان کے تین بچے تھے جن میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔

وہ کرکٹ اور فٹ بال کے شوقین تھے اور اپریل کے مہینے میں صحافیوں کی دو ٹیموں درمیان ہونے والے کرکٹ کے مقابلے میں شہزاد یحیٰ ایگلز الیون کے کپتان تھے۔

اسی دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے دوسرے کیمرہ مین محمود نجی ٹیی وی چینل ڈان نیوز کے ساتھ وابستہ تھے۔

محمود خان انتہائی محنتی تھے اور ان کی محنت کے نتیجے میں ان کو سکیورٹی گارڈ سے کمیرہ مین بنا دیا گیا تھا۔

شہزاد یحیٰ کے تین بچے تھے جن میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنشہزاد یحیٰ کے تین بچے تھے جن میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں

بم دھماکے میں 92نیوز کے کمیرہ مین فتح گلاب اور دنیا نیوز کے سینیئر رپورٹر فریداللہ زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے صحافیوں کی بھی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ہلاکتوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

سنہ 2008 کے بعد سے صحافیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر حماد اللہ سیاہ پاد نے بتایا کہ گذشتہ دس سالوں کے دوران بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے واقعات میں مجموعی طور پر 43صحافی اور کیمرہ مین ہلاک ہوچکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان میں سے آٹھ صحافی اور کیمرہ مین بم دھماکوں میں جبکہ باقی ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ پیر کے روز کوئٹہ کے سول ہسپتال کے شعبۂ حادثات کے داخلی دروازے کے باہر ہونے والے دھماکے میں اب تک کم از کم 69 افراد ہلاک جبکہ 26 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جنھیں کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔