’بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹیں گے‘

جنرل راحیل اور وزیراعظم نواز شریف نے سی ایچ ایم میں زخمیوں کی عیادت کی

،تصویر کا ذریعہPM OFFICE

،تصویر کا کیپشنجنرل راحیل اور وزیراعظم نواز شریف نے سی ایچ ایم میں زخمیوں کی عیادت کی

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے دشمن چین پاک اقتصادی راہداری کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور پاکستان بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرےگا۔

پیر کو کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں زخمیوں کی عیادت کے بعد گورنر ہاؤس میں وزیراعظم کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔

اجلاس کے بعد پی ایم ہاؤس سے موصول ہونے والے تحریری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ریاست کے تمام سکیورٹی ادارے پوری قوت کے ساتھ کام کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد نئے طریقے اپنا رہے ہیں اور’سافٹ ٹارگٹس‘ یا آسان ہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ تین سال میں بلوچستان میں امن کی بحالی میں بہتری آئی تھی اور یہ حالیہ افسوسناک واقعہ قوم کے عزم پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ’میرے ذہن میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے دشمن پاک چین راہداری منصوبے کے پیچھے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAPP

آرمی چیف کی سرابراہی میں سی پیک منصوبے کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے فوج کی کارکردگی پر اعمتاد کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت بلوچستان میں ایف سی اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کی مدد کے لیے وسائل فراہم کرے گی۔

’ہم بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے‘

اس سے قبل کوئٹہ پہنچنے پر جنرل راحیل شریف نے ایک اجلاس کے دوران خفیہ ایجنسیوں کو شدت پسندی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف ملک بھر میں کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کے مطابق کوئٹہ میں دھماکے بعد جنرل راحیل نے سول ہسپتال اور بلوچستان ہائی کورٹ کا دورہ کرنے کے بعد سکیورٹی سے متعلق ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کی۔

دھماکے میں 69 افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندھماکے میں 69 افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں

ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل نے کہا ہے کہ یہ دھماکہ بلوچستان میں سکیورٹی کی بہتر صورتحال کو نقصان پہنچانے اور خاص کر چین پاکستان اقتصادی راہداری مصنوبے کو ہدف بنانے کے لیے کیا گیا۔

انھوں نے شدت پسندی کے واقعات میں ملوث افراد کو ہدف بنانے کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ملک بھر میں کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

جنرل راحیل شریف نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں شکست کے بعد دہشت گردوں کی توجہ بلوچستان کی جانب ہو گئی ہے۔

اس اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے علاوہ فوج کی جنوبی کمانڈ کے سربراہ سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ پیر کی صبح ہونے والے بم دھماکے میں اب تک 69 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔