کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دھماکہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سول ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کے بعد کے مناظر۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں وکلا اور میڈیا کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنصوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں وکلا اور میڈیا کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
 ہلاک ہونے والوں میں نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے کیمرہ مین شہزاد یحییٰ بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن ہلاک ہونے والوں میں نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے کیمرہ مین شہزاد یحییٰ بھی شامل ہیں۔
بلوچستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے سرکاری ٹی وی کو یہ بھی بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ خودکش دھماکہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبلوچستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے سرکاری ٹی وی کو یہ بھی بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ خودکش دھماکہ تھا۔
جس وقت دھماکہ ہوا تو وہاں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی میت لائی گئی تھی جو پیر کی صبح ہی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے تھے۔

،تصویر کا ذریعہKher Muhammad

،تصویر کا کیپشنجس وقت دھماکہ ہوا تو وہاں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی میت لائی گئی تھی جو پیر کی صبح ہی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے تھے۔
وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے کوئٹہ میں دھماکے کی سخت مذمت کی ہے اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل نے شدت پسندی سے متاثرہ ہسپتال کا دورہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے کوئٹہ میں دھماکے کی سخت مذمت کی ہے اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل نے شدت پسندی سے متاثرہ ہسپتال کا دورہ کیا ہے۔
 اپریل سنہ 2010 میں بھی کوئٹہ کے سول ہسپتال میں اسی مقام پر بھی بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر کے صاحبزادے کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد وہاں جمع ہونے والے افراد پر خودکش حملہ ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن اپریل سنہ 2010 میں بھی کوئٹہ کے سول ہسپتال میں اسی مقام پر بھی بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر کے صاحبزادے کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد وہاں جمع ہونے والے افراد پر خودکش حملہ ہوا تھا۔
دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشندھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
دھماکے کے بعد زخمیوں کو فوجی ہسپتال سی ایچ ایم میں بھی منتقل کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندھماکے کے بعد زخمیوں کو فوجی ہسپتال سی ایچ ایم میں بھی منتقل کیا گیا۔
 بلوچستان کی صوبائی حکومت اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن بلوچستان کی صوبائی حکومت اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔