’فوجی عدالتیں چند ماہ کی مہمان ہیں‘

سات جون 2014 کو وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں فیصلہ ہوا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسات جون 2014 کو وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں فیصلہ ہوا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی نےکہا ہے کہ ملک میں فوجی عدالتیں اب چند ماہ کی مہمان ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں جنوری سنہ 2015 سے 11 خصوصی فوجی عدالتیں کام کر رہی ہیں جن میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت ہوتی ہے۔

اب تک کی تفصیلات کے مطابق ان 11 فوجی عدالتوں نے اب تک 105 افراد کے مقدمات نمٹائے ہیں جن میں 81 افراد سزا وار قرار پائے۔ ان میں سے77 افراد کو موت کی اور چار کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

بدھ کو نیشنل ایکشن پلان کے اجلاس کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان سے متعلق وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دو سے تین امور پر بات ہوئی۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ ’فوجی عدالتوں کے لیے سب نے ووٹ نہیں دیے، لیکن مسلم لیگ نون نے یہ اپنے سیاسی مخالفین کے لیے نہیں دہشت گروں کے لیے بنائے تھے اور اس کے نتائج مثبت آئے۔‘

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے اجلاس کے بعد وہ نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے ایوان کو اعتماد میں لیں گے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے تمام سطحوں پر مکمل اتفاق ہے کہ پچھلے ڈھائی سالوں میں پاکستان کی سکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوئٹہ حملہ معمول کا دہشت گرد حملہ نہیں تھا بلکہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔

’کچھ شواہد ملے ہیں چند دن اور چاہییں، خفیہ اداروں کو بھی ہدایت ہے کہ ساری تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔‘

وزیرداخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آخری حصے میں ہیں’چند مہینے، سال یا ڈیڑھ سال، اگر ہم متحد رہیں گے تو جنگ منطقی انجام تک پہنچا کر کامیابی حاصل کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد سات جون کو وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں فیصلہ ہوا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا۔

وزیرِ داخلہ نے فوج اور حفیہ اداروں کے کردار کو سراہا اور گذشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی کی جانب سے پاکستانی سکیورٹی اداروں کے حوالے سے دیے جانے والے بیان پر تنقید کی اور کہا کہ ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جو خفیہ اداروں اور سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے تضحیک آمیز اور ان کا مورال کمزور کرنے کا باعث ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے خلاف دشمن صرف مقامی نہیں بلکہ غیر ملکی بھی ہیں اور یہ گٹھ جوڑ اتنا اندوہناک ہے کہ شاید اس کی تفصیل عوامی سطح پر بیان نہیں ہو سکتی۔