’انسانی حقوق کے اہلکاروں کو فوجی عدالتوں میں بیٹھنے دیں‘

جنرل راحیل شریف

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ محض ایک ٹویٹ کے ذریعے بتا دیا جاتا ہے کہ آرمی چیف نے اتنے افراد کو فوجی عدالتوں کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کی توثیق کی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

انسانی حقوق سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے مطالبہ کیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں ملزموں کے خلاف چلنے والے مقدمات کی عدالتی کارروائی میں انسانی حقوق کمیشن کے ایک اہلکار کو بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ ان عدالتوں میں ملزموں کے خلاف چلنے والے مقدمات کی نوعیت کیا ہے اور اس بارے میں کیا عدالتی کارروائی ہوئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ محض ایک ٹویٹ کے ذریعے بتا دیا جاتا ہے کہ آرمی چیف نے اتنے افراد کو فوجی عدالتوں کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کی توثیق کر دی ہے۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ تفصلات کے بغیر اس طرح کی سزائیں دینا انسانیت کی توہین ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے ورثا کو اس بات کی تسلی ہونی چاہیے کہ فوجی عدالتوں نے اُن کے عزیز کو سزا سنانے میں تمام آئینی تقاضے پورے کیے ہیں۔

دہشت گردی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی عدالتیں ملک کے مختلف حصوں میں کام کر رہی ہیں تاہم ان کی کارروائی کو مخفی رکھا جاتا ہے اور کسی غیر متعقلہ شخص کو اس عدالتی کارروائی کو دیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ جب سے پاکستان میں سزائے موت پر سے پابندی اُٹھائی گئی ہے اس کے بعد سے اب تک چند دہشت گردوں کے علاوہ بڑی تعداد میں عام مجرموں کو زیادہ پھانسیاں دی جا رہی ہیں۔

سینیٹر نسرین جلیل کی سربراہی میں ہونے والے سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جسمانی تشدد سے بڑا تشدد جبری گمشدگی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جبری گمشدگی کے سب سے زیادہ واقعات صوبہ بلوچستان، کراچی اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں ہو رہے ہیں۔ اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان جبری گمشدگی کے بین الاقوامی کنونشن پر دستخط کرے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں فوج اور اس کے خفیہ ادروں پر جبری گمشدگیوں کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتی رہی ہیں تاہم اس ضمن کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آئے۔

ملک میں عورتوں کو زندہ جلائے جانے کے واقعات میں اضافے سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ جب تک ان واقعات میں ریاست کی مدعیت میں مقدمات درج نہیں کیے جاتے اس وقت تک ان واقعات میں کمی نہیں آ سکتی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور دیگر اداروں کی طرف سے خواتین سے متعلق حالیہ بیانات کے بعد خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ غیرت کے نام پر قتل سے متعلق قانون سازی کی جائے اور اس ضمن میں سینیٹر صغرہ امام کا بل بھی زیر التوا ہے جس کو جلد منظور کروایا جائے۔