غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کو ’ایک دن کی مہلت‘

رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی رہائش میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے اور وہ اس کا احترام کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنرجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی رہائش میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے اور وہ اس کا احترام کرتے ہیں
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کی مساجد میں کیے جانے والے اعلانات میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں سے کہا گیا ہے کہ وہ افغان کیمپ یا کہیں اور مقیم ہیں تو علاقہ خالی کر کے واپس اپنے وطن چلے جائیں۔

چارسدہ سے حکام نے بتایا ہے کہ یہ اعلانات سرو کلے اور خواجہ آوس کے علاوہ مہمند ایجنسی کے بعض مقامات پر جمعرات کے روز کرائے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی حکام کی جانب سے یہ اعلانات کرائے گئے ہیں۔

ان اعلانات میں کہا گیا ہے کہ کیمپوں یا دیگر علاقوں میں مقیم غیر قانونی افغان پناہ گزین علاقہ خالی کر دیں اور اپنے وطن کو واپس چلے جائیں۔

ان غیر قانونی طور پر مقیم پناہ گزینوں کو جمعے کی صبح تک کی مہلت دی گئی ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ مساجد کو پیغام بھیجے گئے کہ وہ یہ اعلانات کر دیں انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اعلانات کس کی جانب سے کرائے گئے ہیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ حکم سکیورٹی حکام کی جانب سے جاری ہوا ہے۔

چارسدہ کے یہ علاقے سرو کلے اور خواہ آوس قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کے قریب واقع ہیں۔ چارسدہ میں افغان کیمپ قائم تو کیے گئے تھے لیکن اب وہاں کم ہی پناہ گزین رہائش پذیر ہیں، بیشتر شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔

چارسدہ میں افغان کیمپ قائم تو کیے گئے تھے لیکن اب وہاں کم ہی پناہ گزین رہائش پزیر ہیں بیشتر شہری علاقوں میں رہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنچارسدہ میں افغان کیمپ قائم تو کیے گئے تھے لیکن اب وہاں کم ہی پناہ گزین رہائش پزیر ہیں بیشتر شہری علاقوں میں رہتے ہیں

صوبائی حکومت کے مشیر اطلاعات مشتاق غنی نے کہا ہے کہ ’رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کے خلاف پہلے سے کارروائی جاری ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی رہائش میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے اور وہ اس کا احترام کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سے صوبہ بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں، شدت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف بڑی کارروائیاں کی گئیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کو گرفتار کر کے واپس وطن بھیجا گیا ہے جبکہ ایسے بھی ہیں جـو خود ہی واپس چلے گئے ہیں۔

گذشتہ چند ماہ کے دوران مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں بم دھماکوں کے علاوہ امن کمیٹیوں کے رضا کاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔